جموں//محکمہ زراعت کی پیداوار کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ( اے سی ایس ) اتل ڈولو نے بیج ملٹی پلیکیشن فارم چنور کا دورہ کر کے فارم کے کام کاج کا جائیزہ لیا ۔ ربیع کی فصلوں کے فیلڈ آپریشنز کے معائینہ کے دوران ان کے ہمراہ ڈائریکٹر زراعت جموں کے کے شرما بھی تھے ۔ اے سی ایس نے فارم میں استعمال ہونے والی جدید ترین مشینری جیسے کمبائنز ، سیڈ ڈرل ، ٹرانس پلانٹر ، ملٹی کراپ تھریشر ، ٹریکٹرز ، آلو پلانٹر ، ریجرز ، آفسیٹ وغیرہ کا معائینہ کیا اور کہا کہ مشینری کے موثر استعمال کو یقینی بنایا جائے ۔ مسٹر ڈولو نے فارم کے عملے کو ہدایت دی کہ وہ پیداوار کے فرق کو کم سے کم کرنے کیلئے حکمت عملی وضع کریں اور جدید ترین مشینری کے استعمال کے ساتھ فارم کو جدید سائنسی خطوط پر اپ گریڈ کرنے پر توجہ مرکوز کریں ، بیج کی پیداوار کی مکمل صلاحیت کو تلاش کرنے کیلئے آبپاشی کے تحت رقبہ کی توسیع پر توجہ دیں ۔ انہوں نے عملے کو ہدایت دی کہ وہ اناج کی فصلوں کے علاوہ سبزیوں /چارے کی ایچ وائی وی بیج کی پیداوار میں خود کفالت کیلئے کام کریں ۔ اے سی ایس نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیپارٹمنٹل فارمز کو کسانوں کیلئے جدید ترین پیداواری طریقوں کے میدان میں ڈیموسٹریشن ماڈل کے طور پر کام کرنا چاہئیے ۔ ڈائریکٹر زراعت نے بین الاقوامی سرحد پر واقع ہونے کے باوجود فارم میں فصلوں کے معیاری بیج کی پیداوار میں ہونے والی پیش رفت سے اے سی ایس کو آگاہ کیا ۔ دریں اثنا اے سی ایس نے ساجن گپتا کے ایک زرعی کاروباری شخص کے مڑھ میں ہائیڈرو پونک ایگزوٹک ویجیٹیبل فارم کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے افسروں کو نوجوان کاروباریوں کی حوصلہ افزائی کر کے اور مارکیٹ کے اچھے روابط پیدا کر کے اس طرح کی مداخلت کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے کی تاکید کی ۔ مسٹر ڈولو نے مزید ہائی ٹیک کسان سائیلج یونٹ گجنسو کا بھی دورہ کیا جو پرائیویٹ انٹر پرنیور کے ایس ایم فارم چنور کے قریب واقع ہے جو کہ جے اینڈ کے یو ٹی کا سب سے بڑا یونٹ ہے جو 7000 ٹن سے زیادہ اعلیٰ معیار کی سائیلج تیار کرتا ہے ۔ انہوں نے بہت کم مدت کے دوران سبز چارے کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ڈیری سیکٹر کو وسعت دینے میں مدد کیلئے سبز چارے اور سائیلج کے تحت رقبہ بڑھانے پر زور دیا ۔ ڈائریکٹر زراعت جموں نے انہیں آلو کے بیج کی پیداوار کیلئے انڈو ڈچ پروجیکٹ کے تحت سینٹر آف ایکسی لینس کے قیام کے بارے میں بھی بتایا ۔ اس موقع پر جوائینٹ ڈائریکٹر ان پُٹس ، جوائینٹ ڈائریکٹر اپی کلچر اینڈ مشروم ، جے ڈی فارمز ، اسسٹنٹ ایگریکلچر کیمسٹ ، اسسٹنٹ ایگروسوٹو لوجسٹ ، فارم منیجر ایس ایم ایف چنور اور دیگر متعلقین اے سی ایس کے ہمراہ تھے ۔










