سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے قبائلی کمیونٹیوں کی مساوی اور ہمہ جہت ترقی کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر ’’دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اُتکرش ابھیان( ڈی اے۔ جے جی یو اے)‘‘ کی عمل آوری کا جائزہ لینے اور اس کی رفتار کو تیز کرنے کے لئے ایپکس کمیٹی کی پہلی میٹنگ کی صدارت کی۔ یہ بھارت سرکار کی ایک اہم سکیم ہے جو قبائلی علاقوں میں انسانی ترقی کے لئے مخصوص ہے۔میٹنگ میں سیکرٹری قبائلی امور کے علاوہ اہم انتظامی شخصیات نے شرکت کی جن میں پرنسپل سیکرٹری برائے محکمہ بجلی، سماجی بہبود، سکولی تعلیم، کمشنر سیکرٹری خوراک، شہری رسدات و امور صارفین، سیکرٹری منصوبہ بندی، صحت و طبی تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، دیہی ترقیات اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران شامل تھے۔دوران میٹنگ چیف سیکرٹری اتل ڈولو نے متعلقہ محکمہ کو ہدایت دی کہ سکیم کے فوائد جموں و کشمیر کے تمام قبائلی علاقوں تک بلا امتیاز پہنچنے چاہئیں۔ اُنہوں نے مضبوط ڈیٹا کی توثیق کی اہمیت پر خاص زور دیا۔چیف سیکرٹری نے تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ فراہم کردہ ڈیٹا کی زمینی سچائی کی سخت جانچ کریں۔ اُنہوں نے ہدایت دی کہ وہ ذاتی طور پر ان دیہات کا دورہ کریں، موقعہ پر جا کر 25 کلیدی اشاریوں کی بنیاد پر موجود کمیوں کی نشاندہی کریں تاکہ درست اور معیاری معلومات دستیاب ہوں کیوں کہ مؤثر منصوبہ بندی کا انحصار درست ڈیٹا پر ہوتا ہے۔اُنہوں نے متعلقہ محکموں سے کہا کہ وہ وقت مقررہ کے اندر تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس تیار کریں تاکہ ان کمیوں کو دور کیا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ سکیم ایک منفرد اور یکسو موقع فراہم کرتی ہے کہ قبائلی دیہات کی ہمہ جہت ترقی یقینی بنائی جائے۔چیف سیکرٹری نے ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے اضلاع میں اس عمل کی ذاتی طور پر نگرانی کریں تاکہ ڈیٹا کا معیاری حصول اور اس پر مبنی تجزیہ یقینی بنایا جا سکے جو زمینی سطح پر مؤثر مداخلت اور قبائلی کمیونٹی کی زندگی میں نمایاں بہتری کا ضامن ہوگا۔میٹنگ میں سیکرٹری قبائلی امور پرسنا جی راماسوامی نے سکیم کی کلیدی اجزأ اور اس کی پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ اُنہوں نے بتایا کہ ڈِی اے ۔ جے جی یو اے دو اہم اجزأ پر مشتمل ہے براہ راست مالی معاونت وزارت قبائلی امور (ایم او ٹی اے ) سے مالی سال 2024-25 کے لئے 877.10 لاکھ روپے کی تجاویز منظور ہو چکی ہیں۔اس میں 5 قبائلی کثیر المقاصد مارکیٹنگ مراکز (ٹی ایم ایم سیز) کا قیام شامل ہے جس پر 500.00 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ اس سکیم کے تحت ایک یونین ٹیریٹری سطح پر اور بیس ضلعی سطح پرایف آر اے سیلز قائم کی جائیں گی جن پر 377.10روپے لاکھ کی لاگت آئے گی۔یہ سیلز ایف آر اے کلیمز کی جانچ اور سی ایف آر مینجمنٹ پلانز کی عمل آوری میں کلیدی رول ادا کریں گی۔مزید یہ کہ وزارت قبائلی امور نے 25 کلیدی اشاریوں رہائش، سڑک، تعلیم، صحت، منڈی رسائی وغیرہ پر مبنی ابتدائی گیپ اینالیسز مکمل کیا ہے۔ ان معلومات کی درستگی کے لئے دیہی سطح پر گرام سبھاؤں کے ذریعے ’’گراؤنڈ ٹروتھنگ‘‘ کی جا رہی ہے۔اِس کے علاوہ 17 مرکزی وزارتیں ان شناخت شدہ کمیوں کو پورا کرنے کے لئے پُرعزم ہیں جن میںپی ایم اے وائی۔ جی، پی ایم جی ایس وائی ، جل جیون مشن ، آر ڈی ایس ایس ،اجولا یوجنا، پوشن ابھیان، سمارگ شِیکھشا، ہنر مندی، دیرپا زراعت اور سیاحت سے متعلق سکیمیں شامل ہیں۔قبائلی دیہات کے اجزأکے لئے دیہات وار تصدیق شدہ کمیوں کو جب یو ٹی اپیکس کمیٹی سے منظوری ملے گی تب مختلف محکمے ان کمیوں کو دور کرنے کے لئے مربوط اقدامات کریں گے۔دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اُتکرش ابھیان (ڈِی اے ۔ جے جی یو اے) بھارت سرکار کی ایک اہم پہل ہے جس کا مقصد قبائلی علاقوں کو تمام بنیادی سہولیات اور ترقیاتی مواقع سے آراستہ کرنا ہے۔ 2024 میں شروع کی گئی یہ سکیم کثیر الشعبہ جاتی اپروچ پر مبنی ہے جو پورے ملک کے قبائلی دیہات میں ترقیاتی خلا کو پُرکرنے کی کوشش کر رہی ہے۔










