چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیر کے تمام گائوں کو او ڈی ایف پلس بنانے کیلئے اپنی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا

سری نگر//چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے متعلقہ اَفراد پر زور دیا کہ وہ اِس مہینے کے اَندر ہی جموںوکشمیر کی تمام بستیوں کو اوڈی ایف پلس قرار دینے کے لئے اَپنی کوششیں تیز کریں ۔ اُنہوں نے کہا کہ مطلوبہ فنڈز محکمہ کو پہلے ہی تفویض کئے گئے ہیں۔اِس لئے ڈیڈ لائن کو پورا کرنے میں کوئی تاخیرنہیں ہونی چاہیے۔ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے اِن باتوں کا اِظہارسوچھتا مشن کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری آر ڈی ڈی ، ڈائریکٹر رورل سینی ٹیشن اور محکمہ دیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی جبکہ جموں میں مقیم اَفسران نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔چیف سیکرٹری نے اَفسران سے جموںوکشمیر یوٹی کے ہر گائوں میں گھر گھر کوڑا کرکٹ جمع کرنے کی صورتحال کے بارے میں دریافت کیا۔اُنہوں نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ لگیسی ویسٹ بھی گائوں سے اُٹھایا جائے اور ہر پنچایت میں اِس مقصد کے لئے نشاندہی کی گئی جگہوں پرڈمپ کیا جائے۔اُنہوں نے کہا کہ ہر پنچایت میں کوڑا کرکٹ کو الگ کرنا ضروری ہے تاکہ اسے آسانی سے ٹھکانے لگایا جاسکے ۔ اُنہوں نے ان سے کہا کہ وہ لوگوں کو اَپنے اِرد گرد کی صفائی کے بارے میں بیدار کریں اور ماحولیات کو خطے میں ڈال کر اَپنے اِردگرد کوڑا کرکٹ پھینکنے والوں کو جُرمانہ بھی عائد کریں۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ صفائی کا کوئی نعم البدل نہیں ہے اور سب کو اس کے لئے سنجیدہ ہونا ہوگا ۔ اُنہوں نے کہا کہ کام ہر شخص کے لئے ہے کہ وہ اَپنے آپ سے شروع کر کے اَپنے اِرد گرد تک کام کرے ۔اُنہوں نے باور کیا کہ اگر ہم سب مل کر کام کریں تو اَپنے گائوں کی صفائی کا کام پورا کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔اُنہوں نے تسلیم کیا کہ ہمارے گائوں کو صاف ستھرا بنانے میں پہلے سے کہیں زیادہ پیش رفت ہوئی ہے ۔ اُنہوں نے ہمارے دیہاتوں کو صاف ستھرا بنانے میں حاصل کی گئی کامیابیوں کے لئے محکمہ کی سراہنا کی اور ان سے کہا کہ جب تک ہمارے ہر گائوں کو ہر لحاظ سے صاف ستھرا اور حفظان صحت قرار نہیں دیا جاتا تب تک اَپنی کوششوں میں کوئی کمی نہ کریں۔اُنہوں نے اَفسران سے سیگریگیشن شیڈز کی تعمیر ، کمپوزٹ و سوک پٹس کی فراہمی ، نکاسی آب کی سہولیات اور گائوں میں کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے ان سے پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ کے منصوبوں پر عمل درآمد کے بارے میں بھی دریافت کیا جس پر اُنہوں نے ردِّ عمل دیا کہ اس طرح کو کوڑا ہمارے اِرد گرد زیادہ تر غیر صحت مند حالات پیدا کرتا ہے۔کمشنر سیکرٹری آر ڈی ڈی نے میٹنگ کو جانکاری دی کہ 7,163 دیہاتوں میں سے 6,384 دیہاتوں نے جموںوکشمیر یوٹی میں او ڈی ایف پلس کا درجہ حاصل کیا ہے جس کی کوریج 87فیصد گائو ں کی ہے ۔ اُنہوں نے آنے والے مہینوں میں ہر گائوں کو ماڈل زُمرے کا گائوں بنانے پر زور دیا ۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹر رورل سینٹیشن نے جموں وکشمیر یوٹی میں سوچھ بھارت مشن گرامین کے تحت اُٹھائے گئے تمام اقدامات کی موجودہ صورتحال پر زنٹیشن پیش کی ۔ اُنہوں نے بتایا کہ ہر گائوں میں گھر گھر کوڑا کرکٹ اُٹھانے کا کام جاری ہے ۔ اُنہوں نے مزید اِنکشاف کیا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ منصوبہ ہر پنچایت کے لئے ترتیب دیا گیا ہے ۔اِس کے علاوہ مشاورتی کمیٹیوں کی عمل آوری اور نگرانی کے مقصد کے لئے ضمنی قوانین بھی بنائے گئے ہیں۔میٹنگ کو بتایا گیا کہ تمام اَضلاع میں سالڈ ویسٹ اِکٹھا کرنے والی ایجنسی کی نشاندہی کی گئی ہے جس کی دیرپا کے لئے متعلقہ مالیاتی ماڈل ہے ۔ ضلعی صفائی کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں ۔ مزید بتایا گیا کہ محکمہ کی جانب سے اَب تک 80,000 کلو گرام سے زائد کا لگیسی ویسٹ اُٹھایا جاچکا ہے ۔ یہ مزید اِنکشاف ہوا کہ سوچھتا کاروان کے دوران تقریباً 5لاکھ نفوس سے رابطہ کیا گیا تھا جو جموںوکشمیر یوٹی کے تقریباً 1000 دیہاتوں سے گزری تھی۔مزید برآں، میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ مناسب صفائی کو یقینی بنانے کے لئے دیہاتوں میں ہزاروں کمیونٹی کمپوزٹ پِٹس ، سگریگیشن شیڈز،50,000 سے زیادہ سوک پٹ / لیچ گڑھے ، نکاسی آب کی سہولیات ، گرے واٹر مینجمنٹ سسٹم بنائے گئے ہیں۔ جموںوکشمیر کی طول و ارض میں سوچھ بھارت مشن گرامین کے تحت سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور گرے واٹر مینجمنٹ کے لئے اِنفرادی گھریلو اثاثے بنائے گئے ہیں۔