بجلی فیس کی ادائیگی کے باوجود برقی رو منقطع کرنا نا انصافی
سرینگر///بانڈی پورہ سے 20 کلومیٹر دور ایک پہاڑی علاقے چونٹھ واری میں کو گزشتہ 20 دنوں سے بجلی کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس علاقے میں 200 گھرانوں کی آبادی ہے۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بجلی فیس کی ادائیگی کے وعدوں کے باوجود بجلی کی فراہمی ایک گھنٹے کیلئے بحال کی گئی تھی، تاہم بعد میں بجلی کو منقطع کر دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اور بیوروکریسی کے مسائل کی وجہ سے انہیں بنیادی سہولتوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے چونٹھ کے باشندوں نے ریاستی حکومت کے موجودہ محکمہ برقیات اور سیاست دانوں کو اس صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور فوراً بجلی کی بحالی کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ناانصافی ہے کہ جن گھروں نے اپنا فیس مکمل طور پر ادا کیا ہیں، انہیں بجلی سے محروم کر دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر بجلی کی سپلائی منقطع کرنی تھی تو صرف انہی گھروں کی بجلی منقطع کی جانی چاہیے تھی جن کے بل بقایا ہیں، نہ کہ پورے گاؤں کو اس کی سزا دی جائے۔ مقامی لوگوں نے بانڈی پورہ کے ڈپٹی کمشنر سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے تاکہ ان کی مشکلات کا حل نکل سکے اور بجلی کی فراہمی بحال کی جا سکے۔ پی ڈی پی لیڈر اور سوشل میڈیا ہیڈ سید تجمل نے چونٹھ واری اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بجلی کی مسلسل بندش پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ ڈپٹی کمشنر سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔سید تجمل نے کہا’’چونٹھ واری اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں بجلی کی بندش نے عوام کی زندگی کو شدید مشکلات میں ڈالا ہے اور یہ غیر منصفانہ ہے کہ ایسے علاقوں کو بجلی سے محروم کیا جائے جہاں کے رہائشیوں نے اپنا فیس بروقت ادا کیے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ متعلقہ حکام سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ فوراً چونٹی واری اور ملحقہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی بحال کریں تاکہ عوام کو سہولت فراہم کی جا سکے۔انہوں نے کہا ’’عوام کی مشکلات کا ازالہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور اس کے لئے ہر ممکن قدم اٹھانا ضروری ہے۔‘‘










