چوتھے مرحلے میں بارہمولہ پارلیمانی نشست پر22امیدوار میدان میں

نیشنل کا ماضی میں مضبوط قلعہ 9مرتبہ فاتح بنی ، کانگریس نے بھی5مرتبہ اس نشست پر کیا راج

سرینگر//سخت سیکورٹی کے بیچ مجموعی طور پر پانچوین جبکہ جموں کشمیر میں چوتھے مرھلے پرشمالی کشمیر کی بارہمولہ ،کپوارہ پارلیمانی نشست پر20 مئی کو17لاکھ سے زائد رائے دہندگان عمر عبداللہ،سجاد غنی لون اور انجینئر رشید سمیت22امیدواروں کی سیاسی تقدیر تحریر کریں گے۔4اضلارع پر محیط یہ پارلیمانی نشست ماضی میں نیشنل کانفرنس کا مسکن ثابت ہوا ہے اور9مرتبہ جیت درج کی جبکہ کانگریس بھی5بار کامیاب ہوئی ہیں۔پروفیسر سیف الدین سوز نینیشنل کانفرنس اور کانگریس کی ٹکت پر4مرتبہ اس نشست پر جیت درج کی ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق شمالی کشمیر کی پارلیمانی نشست پر سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے امیدوار عمر عبداللہ،پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون اور تہاڑ جیل میں نظر بند سابق ممبر اسمبلی انجینئر رشید کے درمیان مقابلہ آرائی قابل دید ہوگی۔اس نشست پر مجموعی طور پر22 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کئے ہیں جن میں پی ڈی پی کے میر محمد فیاض، نیشنلسٹ پیپلز فرنٹ کے منیر احمد خان،پنتھرس پارٹی کے پیرزادہ مدثر رشید شاہ، راشٹریہ جن کرانتی پرٹی کے خورشید احمد شاہ، نیشنل یوتھ پارٹی کے فاروق احمد بٹ، نیشنل لوک تانترک پارٹی کے مشتاق احمد میر،آزاد امیدوار ارن کمار رینہ،ثریا نثار،سید عامر سہیل،شادب حنیف خان، شبیر احمد ڈار، شفیقہ بیگم، فردوس احمد بٹ،محمد سلطان گنائی،مدثر احمد تانترے،مظفر حسین ڈار،معراج الدین نجار، نذیر احمد صوفی اور ہلال احمد وگے شامل ہیں۔ شمالی کشمیر کی بارہمولہ پارلیمانی نشست بھی18 اسمبلی حلقوں پر شامل ہے جس میں نئے تشکیل دئیے گئے اسمبلی حلقہ واگورہ کریری اور ترہ گام کو بھی شامل کیا گیا۔یہ پارلیمانی حلقہ حد بندی سے قبل15 اسمبلی نشستوں پر شامل تھی تاہم حد بندی کے بعد اس میں ضلع بڈگام کی بڈگام اور بیروہ اسمبلی نشست کو بھی شامل کیا گیا۔4 اضلاع پر پھیلی اس پارلیمانی نشست میںبیروہ،بڈگام،گریز،بانڈی پورہ،سوناواری، پٹن،واگورہ، کریری،گلمرگ،بارہمولہ،اوڈی،رفیع آباد،سوپور،لنگیٹ، ہندوارہ، لولاب،کرناہ،ترہ گام اور کپوارہ اسمبلی حلقے شامل ہے۔اس پارلیمانی نشست پر رائے دہندگان کی تعداد17لاکھ32ہزار459ہے جن میں8لاکھ73ہزار171مرد اور8لاکھ59ہزار255خواتین کے علاوہ33خواجہ سراشامل ہے۔وی او آئی کے مطابق اس نشست پر پہلی بار ووٹروں کی تعداد72ہزار135ہیں جن میں37ہزار956مرد،34ہزار156خواتین کے علاوہ3خواجہ شرہ بھی شامل ہیں۔جسمانی طور پر معذور ووٹروں کی تعداد17ہزار51ہے جن میں10ہزار234مرد اور6817خواتین بھی شامل ہیں۔اس نشست پر کل ہوئے15پارلیمانی انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے9مرتبہ اپنے حریفوں کو شکست کی دھول چٹوائی ہے جبکہ کانگریس نے بھی5مرتبہ اور پی ڈی پی نے ایک دفعہ اس نشست پر میدان مارا ہے۔ پروفیسر سیف الدین سوز واحد ایسے امیدوار ہے جنہوں نے4مرتبہ پارلیمانی انتخابات میں فتح حاصل کی ہے جبکہ غور طلب بات یہ ہے کہ نیشنل اور کانگریس دونوں جماعتوں کی ٹکٹوں پر پروفیسر سوز نے میدان مارا۔اس نشست پر مظفر حسین بیگ کو 3مرتبہ جبکہ سید علی شاہ گیلانی کو 2مرتبہ ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ماضی میں ہوئے انتخابات پر اگر نظر دوڑائی جائے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بارہ مولہ کپوارہ نشست پر نیشنل کانفرنس کا پلہ بھاری رہا ہے۔1957سے1967تک کانگریس نے اس نشست پر شیخ محمد اکبر کو نامزد کیا جبکہ 1967میں پہلی بار اس نشست پر ہوئے انتخابات کے دوران کانگریس کے امیدوار سید احمد آغا نے نیشنل کانفرنس کے امیدوار اور اپنے نزدیکی مد مقابل اے جی ملک کو تقریباً 20ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ سید احمد آغانے مجموعی طور پر ایک لاکھ ایک ہزار 769جبکہ اے جی ملک نے 81ہزار 254ووٹ حاصل کئے۔ سید علی شاہ گیلانی کو 1971میں اس نشست پر کانگریس کے ہی سید احمد آغانے 15ہزار ووٹوں سے شکست دی۔آغا نے 93ہزار 41ووٹ اور جماعت اسلامی کی ٹکٹ پر انتخابات میں شرکت کرنے والے سید علی شاہ گیلانی نے 78ہزار 543ووٹ حاصل کئے۔ 1977میں اس نشست پر نیشنل کانفرنس امیدوار عبدالاحد وکیل نے پہلی مرتبہ اپنی جماعت کو فتح دلائی اور انہوں نے اپنے نزدیکی مد مقابل جماعت اسلامی کے سید علی شاہ گیلانی کو 47ہزار ووٹوں سے ہرا دیا۔ عبدالاحد وکیل نے ایک لاکھ 47ہزار 222جبکہ سید علی گیلانی نے ایک لاکھ 202ووٹ حاصل کئے۔ آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں شرکت کرنے والے مظفر حسین بیگ کو 1980میں نیشنل کانفرنس کے امیدوار خواجہ مبارک شاہ نے ایک لاکھ 3ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ مبارک شاہ نے ایک لاکھ 78ہزار 533جبکہ مظفر بیگ نے 75ہزار 256ووٹ حاصل کئے۔1983کے ضمنی انتخاب میں پروفیسر سیف الدین سوز نے نیشنل کانفرنس کی ٹکٹ پر جیت درج کی جبکہ پروفیسر سیف الدین سوز نے 1984کے پارلیمانی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کی ٹکٹ پر آزاد امیدوار محی الدین وانی کو ایک لاکھ 40ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔ سیف الدین سوز نے 2لاکھ 34ہزار 357جبکہ محی الدین وانی نے 93ہزار 938ووٹ حاصل کئے۔ بارہمولہ پارلیمانی نشست پر 1989میں ہوئے انتخابات کے دوران پروفیسر سوز نے ایک مرتبہ پھر اپنی جیت درج کی ور انہوں اپنے نزدیکی مد مقابل آزاد امیدوار شیخ عبدالرحمان کو تقریباً 34ہزار ووٹوں سے شکست فاش کرایا۔ سیف الدین سوز نے 35ہزار 139جبکہ شیخ عبدالرحمان نے 719ووٹ حاصل کئے۔کانگریس کے سابق ریاستی صدر غلام رسول کار نے 1996میں اس نشست پر ہوئے انتخابات کے دوران 65ہزار کے قریب ووٹوں سے آزاد امیدوار غلام نبی میر کو ہرا دیا۔ کار نے ایک لاکھ 10ہزار 331اور میر نے 45ہزار 350ووٹ حاصل کئے۔ 1998میں ہوئے انتخابات کے دوران پروفیسر سیف الدین سوز نے اس نشست پر تیسری مرتبہ اپنی جیت درج کر کے مظفر حسین بیگ کو 38ہزار کے قریب ووٹوں سے شکست فاش کرایا۔ پروفیسر سوز نے مجموعی طور پر ایک لاکھ 31ہزار 164جبکہ ان کے نزدیکی مد مقابل مظفر حسین بیگ نے 93ہزار 179ووٹ حاصل کئے۔ سابق ریاستی نائب وزیر اعلیٰ مظفر حسین بیگ کو 1999میں تیسری مرتبہ بارہمولہ کپوارہ نشست پر شکست ہوئی جبکہ انہیں نیشنل کانفرنس کے امیدوار عبدالرشید شاہین نے 40ہزار ووٹوں سے شکست دی۔وی او آئی کے مطابق نیشنل کانفرنس کے امیدوار عبدالرشید شاہین نے 84 ہزار 243ووٹ حاصل کئے جبکہ مظفر حسین بیگ کے حصے میں 48ہزار 130ووٹ ہی آئے۔ 2004میں ہوئے پارلیمانی انتخابات کے دوران نیشنل کانفرنس کے امیدوار عبدالرشید شاہین نے اپنے مزدیکی مد مقابل پی ڈی پی امیدوار ایڈوکیٹ نظام الدین بٹ کو 10ہزار ووٹوں سے ہرا دیا۔ اے آر شاہین نے ایک لاکھ 27ہزار 653جبکہ نظام الدین بٹ نے ایک لاکھ 17ہزار 753ووٹ حاصل کئے۔ 2009 کے پارلیمانی انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے اپنی جیت کا سلسلہ جاری رکھا اور اس نشست پر تقریباً 65ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ نیشنل کانفرنس کے امیدوار شریف الدین شارق نے 2لاکھ 30ہزار 22ووٹ حاصل کئے جبکہ پی ڈی پی کے محمد دلاور میر ایک لاکھ 38ہزار 208ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔ 2014کے پارلیمانی انتخابات کے دوران پی ڈٰ پی نے پہلی مرتبہ اس نشست پر کامیابی حاصل کی،اور پارٹی کے امیدوار مظفر حسین بیگ نے نیشنل کانفرنس کے امیدوار شریف الدین شارق کو29 ہزار219وٹوں کی فرق سے ہرادیا۔ بیگ نے ایک لاکھ75ہزار277جبکہ شریف الدین شارق نے ایک لاکھ46ہزار58ووٹ لینے میں ہی کامیاب ہوئے۔2019میں ہوئے انتخابات کے دوران نیشنل کانفرنس کے محمد اکبر لون نے اپنے نزدیکی مد مقابل پیپلز کانفرنس کے راجہ اعجاز علی کو30ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ لون نے ایک لاکھ33ہزار426جبکہ راجہ اعجاز نے ایک لاکھ3ہزار193اور انجینئر رشید نے ایک لاکھ2ہزار168ووٹ حاصل کیں۔