سرینگر//کانگریس کے سینئرلیڈرجنوبی کشمیر عنایت اللہ راتھر نے کہا گپکار ایلائنس کا حد بندی کمیشن پر بیانات بے سود ہیں۔انہوں نے کہا پی اے جی ڈی میں شامل ممبران پارلیمنٹ حد بندی کی میٹنگ میں کیوں شریک ہوئے ہیں جبکہ کچھ لیڈران پر کچھ علاقوں میں مداخلت کا بھی الزام لگایا ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق کانگریس کے سینئر لیڈر عنایت اللہ راتھر نے بدھ کے روز بتایا کہ جموںو کشمیر میں گپکار ایلائنس عوام کو حد بندی کمیشن پر بیانات دیکر گمرہ کر رہے ہیں انہوں نے کہا جو بیانات دے رہیں ہیں انہیں پہلے ہی صورتحال سے واقفیت تھی ۔راتھر نے کہا ایلائنس میں شامل کچھ لیڈران جو ممبران پارلیمنٹ ہیں وہ کس طرح حد بندی کی میٹنگ میں منعقد ہوئے ہیں انہوں نے کہا میٹنگ میں شرکت کا مطلب انہوں نے فیصلے کو قبول کیا ہے ۔نمائندے میر ارشد کے مطابق انہوں نے الزام لگایا کہ محبوبہ مفتی نے بھی ایک علاقے میں مداخلت کر کے اس علاقے کو بجبہاڑہ حلقہ انتخابات میں واپس لایا ہے جس کو ایک اور علایق کے ساتھ ملایا گیا ہے ۔انہوں نے کہا ایلائنس کے ترجمان نے انہیں کہا کہ آپ کی کانسچوونسی اب نہیں رہے گے ۔انہوں نے الزام لاگایا ان لیڈران کو پہلے ہی سب فیصلے کیسے پتہ تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب لوگوں کو گمرہ اسی طرح کر رہی ہیں جس طرح 1975کے بعد یہاں ہر پارٹی اور لیڈر نے لوگوں کو دھوکہ کر کے لوٹ لیا ہے ۔کانگریس پارٹی کیا ندرونی خلفشار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا مجھے غلام احمد میر کے ساتھ ذاتی طور کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن جب پارٹی بنیادوں پر بات کریں گے تو ان کی گزشتہ سالوں کے دوران کی بحثت یوٹی ہیڈ کی کار کردگی صفر کے برابر رہی ہے ۔انہوں نے کہا غلام نبی آزاد کوعوامی مقبولیت حاصل ہے جس کو ہر ایک نے تسلیم کیا ہے ۔کانگریس لیڈر نے بتایا جموںو کشمیر میں ان کے دور اقتدار میں جو تعمیر و ترقی اور روز گار فراہم کرنے میں انقلاب آیا وہ سب کو یاد ہے ۔انہوں نے کہا جمو ںو کشمیر میں کسی نوجوان لیڈر کو پارٹی کی طرف سے زمہداری سونپ دینی چاہے جو پارٹی اور جموںو کشمیر کے لوگوں کے لئے بہتر ہوگا ۔










