GN VAR

پی ایس اے جے کے صدر جی این وار کا بجٹ 2025-26 کا خیرمقدم

جموں و کشمیر میں نیشنل لاء یونیورسٹی کا قیام تاریخی سنگ میل، نجی تعلیمی شعبے کے مسائل کے فوری حل پر زور

سرینگر / /پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن جموں و کشمیر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ 2025-26 کا خیرمقدم کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر جی این وار نے حکومت کی جانب سے تعلیمی شعبے پر خصوصی توجہ اور عوام دوست اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابق جی این وار نے اپنے بیان میں تعلیم کو ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے نیشنل لا ء یونیورسٹی کے قیام کو ایک تاریخی پیش رفت کہا جا سکتا ہے، جو جموں و کشمیر کے طلبہ کو معیاری قانونی تعلیم فراہم کرے گی۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے ابتدائی طور پر 50 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، جو اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے”. انہوں نے تعلیم کے شعبے کے لیے مختص 1388.97 کروڑ روپے کے بجٹ کی بھی تعریف کی، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 242.75 کروڑ روپے کا اضافہ ہے۔ ان کے مطابق، یہ رقم تعلیمی ڈھانچے کو بہتر بنانے، تعلیمی معیار کو بلند کرنے اور طلبہ کی فلاح و بہبود کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔جی این وار نے مزید کہاکہ “40 ہائر سیکنڈری اسکولوں کو جدید K-12 تعلیمی اداروں میں تبدیل کرنا ایک بہترین فیصلہ ہے، جو تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈالنے میں معاون ثابت ہوگا”. انہوں نے ڈگری کالجوں میں بنیادی سہولیات کی بہتری اور 600 نئے پولی ٹیکنک نشستوں کے اضافے کو بھی ایک اہم اقدام قرار دیا، جو تکنیکی تعلیم اور ہنر مندی کے فروغ کے لیے نہایت ضروری ہے۔پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے حکومت سے نجی تعلیمی اداروں کو درپیش دیرینہ مسائل کے حل پر فوری توجہ دینے کی اپیل کی۔ وار نے کہا کہ نجی اسکول جموں و کشمیر میں لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کر رہے ہیں، جن میں اساتذہ، غیر تدریسی عملہ، ڈرائیور، کنڈکٹر، سکیورٹی گارڈ، منتظمین، اکائونٹنٹس، ائی ٹی ایکسپرٹس اور دیگر لوگ شامل ہیں”. انہوں نے مزید کہا کہ نجی تعلیمی ادارے حکومت کو ٹیکس، بجلی و پانی کے بل اور دیگر فیسیں ادا کر کے معیشت میں نمایاں حصہ ڈال رہے ہیں۔ حکومت کو ان اداروں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات اٹھانے چاہیں۔جی این وار نے حکومت کے عوام دوست فیصلوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے انتودیا انا یوجنا (AAY) کے تحت ہر مستحق فرد کو 10 کلو مفت راشن اور 200 یونٹ بجلی مفت فراہم کرنے کے فیصلے کو غریب عوام کے لیے راحت بخش قرار دیا۔ انہوں نے شادی امداد اسکیم میں 50 ہزار سے بڑھا کر 75 ہزار روپے تک کے اضافے، خواتین کے لیے مفت پبلک ٹرانسپورٹ، اور پنشن میں اضافے جیسے اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات کمزور طبقے کی زندگیوں میں بہتری لائیں گے۔پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے حکومت پر زور دیا کہ بجٹ میں کیے گئے اعلانات پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ اس کے فوائد نچلی سطح تک پہنچ سکیں۔ جی این وار نے کہا، “بجٹ مختص کرنے سے زیادہ اہم اس کا درست استعمال اور شفافیت ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ اقدامات بروقت اور منظم انداز میں نافذ کیے جائیں گے”. آخر میں، ایسوسی ایشن نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں تعلیمی اصلاحات کی حمایت جاری رکھنے اور خطے کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔