electricity

پوری وادی کشمیر کے شہر و دیہات میں بجلی کے شدید بحران سے عوام پریشان

فیس میں اضافہ ،گرمی،پانی کے بہتر مقدار اور لوڈ کے کم استعمال کے باجوود بجلی بحران سمجھ سے باہر:صارفین

سرینگر// وادی کشمیر میں گزشتہ کئی روز سے موسم گرما میں پہلی بار پانی کے وافر مقدار کی موجودگی،بجلی کے کم استعمال اوربجلی فیس میں ہوش ربا اضافے کے باوجود سپلائی میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے صارفین کو طرح طرح کے مشکلات سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے ۔ اس دوران صارفین نے بتایا وادی کے شہر دیہات میں ایک جیسی صورتحال ہے۔لوگوں کا سوال یے اس موسم میں پانی بھی اچھا ہے لوڈ صارفین کم استعمال کرتے ہیں اور فیس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تو بجلی بحران کا جواز کیسا ہے ۔کشمیر نیوز سروس( کے این ایس ) کے مطابق وادی کشمیر کے شہر دیہات میں گزشتہ کئی روز سے بڑے پیمانے پر آنکھ مچولی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے جس کی وجہ سے صارفین کو طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ صارفین نے بتایا موسم سرما میں اس طرح کی آنکھ مچولی کبھی نہیں ہوتی تھی جس طرح ان دنوں ہو رہی ہے ۔ لوگوں نے بتایا بجلی ،کی آنکھ مچولی سے جہاں عام لوگ پریشان ہیں وہی دوسری جانب کار باری افراد بھی متاثر ہوئے جبکہ شہر اور چند گرم علاقوں میں لوگوں کا حال بے حال ہوتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ علاقوں میں بجلی براہ نام فراہم کرنے سے سپلائی کی مدد سے بجلی فراہم کرنے والے واٹر پمپ بے کار ہے جس کے نتیجے میں یہاں متعدد علاقوں میں آبی اراضی بے کار پڑی ہے ۔لوگوں نے سوال کیا ہے کہ اگر موسم سرما کی بات کی جائے لوگ زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں تاہم موسم گرما میں بجلی کا استعمال بہت کم ہوتا ہے جبکہ ندی نالوں میں پانی کی سطح بہت زیادہ ہے بجلی فیس میں بھی ہوش ربا اضافہ کیا گیا ہے اس کے باوجود بھی لوگوں کو گونا گو مشکلات سے دو چار ہیں ۔صارفین نے ایل جی انتظامیہ سے اس بارے میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔