ترجیجی شعبہ جات کی نگرانی سائنسی ادارے کے ساتھ کرنے کا فیصلہ
سرینگر//جموں و کشمیر میں بھاسکراچاریہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسپیس ایپلی کیشنز اینڈ جیو انفارمیٹکس کے تعاون سے شناخت شدہ ترجیجی شعبہ جات کیلئے انتظامیہ کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے تحت ہونے والی پیش رفت کی نگرانی کا کام محکمہ ماحولیات کے فائنانشل کمشنر(ایڈیشنل چیف سیکریٹری) دھیرج کمار کو سونپا گیا ہے۔ ان ترجیجی شعبہ جات میں پنچایت پروفائلنگ، تمام آن لائن پورٹلز کا انضمام، عوامی شکایات وغیرہ: شامل ہیں۔بھاسکراچاریہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسپیس ایپلی کیشنز اینڈ جیو انفارمیٹک یک خود مختار سائنسی سوسائٹی ہے جو سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت رجسٹرڈ ہے تاکہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور انتظام، تحقیق،جیو،خصوصی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون، صلاحیت کی تعمیر اور ٹیکنالوجی کی منتقلی اور کاروباری ترقی میں معاونت اور ترقی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر سہولت فراہم کرے۔محکمہ ماحولیات کے فائنانشل کمشنر(ایڈیشنل چیف سیکریٹری) دھیرج کمار کی سربراہی والی کمیٹی کو جموں کشمیر انتظامیہ کی جانب سے بھاسکراچاریہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسپیس ایپلی کیشنز اینڈ جیو انفارمیٹکس کے تعاون سے کئے گئے اقدامات کے تحت ہونے والی پیش رفت کی نگرانی کے لیے، شناخت شدہ ترجیحی شعبہ جات میں جن میں پنچایت پروفائلنگ، تمام آن لائن پورٹلز کا انضمام، عوامی شکایات، رابطہ عامہ پروگرام کی ڈیجیٹائزیشن، عام آدمی کی افادیت کے لیے آن لائن خدمات سے واقفیت، مربوط زرعی ترقی پروگرام میں آئی ٹی مداخلت، خود روزگار اور ہنرمندی کی ترقی کی اسکیموں کا سراغ لگانا اورقرضوں کو کم کرنا شامل ہیں۔کمیٹی. ملک بھر میں کسی بھی ریاست،و زیرانتظام علاقووںمیں لاگو کیے گئے اسی طرح کے اقدامات کا جائزہ لینے اور جموں و کشمیر میں اپنانے کے لیے بہترین طریقوں سے کام کرے گی جبکہ کمیٹی ایک ماہانہ پیشرفت رپورٹ چیف سکریٹری کے دفتر میں پیش کرے گی۔کمیٹی کی کمان محکمہ ماحولیات کے فائنانشل کمشنر( ایڈیشنل چیف سیکریٹری دھیرج کمار کے ہاتھوں میں دی گئی جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی محکمہ کے انتظامی سیکریٹری اس کے ممبر سیکریٹری ہونگے۔ کمیٹی میں محکمہ خزانہ،محکمہ دیہی ترقی و پنچایتی راج ،محکمہ فروغ ہنر،محکمہ محنت کش و رزگار،محکمہ منصوبہ بندی مترقی و نظارت،محکمہ پبلک گرو ائنس(ازالہ شکایات) کے انتظامی سیکریٹریوں کے علاوہ زرعی یونیورسٹی کشمیر کے وائس چانسلر اور کمیٹی کی جانب سے نامزد کوئی بھی نمائندہ اس کمیٹی کے ممبران ہونگے۔










