دکھ زدہ خاندان کے ساتھ ہماری تعزیت /پرائیویٹ اسپتالوں اور ڈائیلاسز سینٹرس ایسوسی ایشن
سرینگر // جموں و کشمیر پرائیویٹ اسپتالوں اور ڈائیلاسز سینٹرس ایسوسی ایشن نے پلوامہ کے ایک نرسنگ ہوم میں دوشیزہ کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملہ کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تاہم انہوں نے سنیٹر کو سیل کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ۔ سی این آئی کو ارسال ایک بیان میں ایسوسی ایشن کے صدر میر فیضان نے کہا ’’حالانکہ موت بذات خود بہت افسوسناک ہے اور اس سے سخت ترین دلوں کو بھی دکھ ہوتا ہے‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک خبر سے بہت غمزدہ اور غم کی اس گھڑی میں ہمارے خیالات دکھ زدہ خاندان کے ساتھ ہیں اور ہم ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔صدر نے مزید کہا کہ کوئی بھی ڈاکٹر، اینستھیسٹسٹ یا اسپتال انتظامیہ نہیں چاہے گا کہ اس کے اسپتال میں کوئی حادثہ پیش آئے لیکن یہاں تک کہ بہترین اداروں میں بھی ایسا ہوسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انتظامیہ سنیٹر کو سیل نہیں کر سکتی ہے جو کہ تشویشناک امر ہے ۔ ایسوی ایشن ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مسعود حسن نے کہا ’’ ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ یہ افسوسناک واقعات سرکاری اداروں میں بھی پیش آئے ہیں لیکن ان پر کبھی مہر نہیں لگائی گئی۔ جموں کشمیر میں پرائیویٹ سیٹ اپ اپنے ابتدائی دور میں ہے اور وہ پچھلے کچھ سالوں میں زبردست ترقی کر رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح دوسرے نمبر پر ہے یعنی 28.2 فیصد ہم بہترین خدمات فراہم کرنے کے علاوہ ہزاروں روزگار پیدا کر رہے ہیں لیکن انتظامیہ کی طرف سے اسپتال کو سیل کرنے کا اس قسم کا رویہ نجی شعبے کی حوصلہ شکنی اور غمگین ہے۔ایسوسی ایشن نے مزید کہا’’ہم انتظامیہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس واقعے کے ارد گرد کے حالات کی مکمل تحقیقات کرے اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کیلئے اصلاحی اقدامات کرے‘‘۔










