پرنسپل سیکرٹری صنعت و حرفت نے اَنٹرپرینیورشپ سکیموںپر جے کے اِی ڈی آئی کی مجموعہ کے پہلے ایڈیشن کی نقاب کشائی کی

سری نگر//پرنسپل سیکرٹری صنعت و حرفت پرشانت گوئیل نے آج جموںوکشمیر اَنٹرپرینیور شپ ڈیولپمنٹ اِنسٹی چیوٹ ( جے کے اِی ڈی آئی ) کی طرف سے مرتب کردہ اَنٹرپرینیور شپ اور روزگار سے متعلق سکیموں پر کمپنڈیم کا پہلا ایڈیشن جاری کیا۔یہ معلوماتی مجموعہ خطے میں کاروباری ترقی اور روزگار کے مواقع کی خاطر سازگار ماحول کو فروغ دینے کے لئے حکومت کے عزم کو اُجاگر کرتا ہے۔ یہ دستاویز اَپنے کاروبار شروع کرنے یا روزگار تلاش کرنے کے لئے معلومات اور سپورٹ کے خواہشمند کاروباری اور نوجوان افراد کے لئے ایک قیمتی وسیلہ کے طور پر کام کرے گی۔پرشانت گوئیل نے کہا،’’حکومت جموںوکشمیر کی طرف سے مختلف روزگار اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق شروع کئے گئے اَقدامات کے بارے میں معلومات کی ترسیل ضروری ہے تاکہ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کو قابل عمل کاروباری منصوبے قائم کرنے کے لئے حساس بنایا جا سکے اور یہ موجودہ اور ممکنہ کاروباری افراد کے لئے رہنمائی کا ذریعہ ثابت ہو گا۔‘‘اِس کمپنڈیم میں حکومت کی جانب سے کاروبار کو فروغ دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے مختلف سکیموں، اَقدامات اور پروگراموں کا ایک جامع مجموعہ شامل ہے۔ یہ اہلیت کے معیار، مالی اِمداد، تربیتی پروگراموں اور جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لئے دستیاب دیگر سپورٹ میکانزم کے بارے میں تفصیلات فراہم کرے گا۔اُنہوں نے کہا،’’سٹارٹ اپ کا ماحول عالمی سطح پر عروج پر ہے اور بہت سے کامیاب کاروبار بنائے جا رہے ہیں، جو اپنے طور پر صنعت کے معیارات قائم کرکے صنعت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہ مجموعہ اگرچہ ایک چھوٹا سا قدم ہے، ایک کاروباری کیریئر کے آغاز میں سہولیت فراہم کر سکتا ہے۔‘‘ ڈائریکٹر جے کے اِی ڈی آئی اعجاز احمد بٹ نے کہا،’’لیفٹیننٹ گورنرمنوج سِنہا اور چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا کی قیادت میںاِنسٹی چیوٹ کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور اُن کی حوصلہ افزائی کرنا ہے اور وہ کاروباری منصوبوں کو تلاش کریںجو خطے میں اِقتصادی ترقی، روزگار کی تخلیق اور مجموعی ترقی کا باعث بن سکتے ہیں۔‘‘یہ مجموعہ اختراعیت ، خود روزگاری او ردیر پا اِقتصادی ترقی کے کلچر کو فروغ دینے پر حکومت کی توجہ کو اُجاگر کرتا ہے ۔ یہ معلومات کو پھیلانے اور نوجوانوں میں مختلف سکیموں اور ان کے لئے دستیاب مواقع کے بارے میں بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار اَدا کرے گا۔