پرشانت گوئیل نے پہلے سٹارٹ اَپ لیڈر شپ کنکلیو کا اِفتتاح کیا

سری نگر//پرنسپل سیکرٹری صنعت و حرفت پرشانت گوئیل نے آج جموںوکشمیر اَنٹرپرینیور شپ ڈیولپمنٹ اِنسٹی چیوٹ ( جے کے اِی ڈی آئی ) میں پہلے سٹارٹ اَپ لیڈر شپ کنکلیو کا اِفتتاح کیا ۔اِس موقعہ پر کلیدی مقرر پیارے ضیاء خان موجود تھے جو اَشمی گروپ کے سِی اِی او ہیں اور ملک بھر کے اُبھرتے ہوئے کاروباری اَفراد کے لئے ایک تحریک ہیں۔پرنسپل سیکرٹری نے اَپنے اِفتتاحی خطاب میںکہا کہ مرکزی حکومت کا سٹارٹ اَپ اِنڈیا اَقدام ملک کے لئے گیم چینجر ثابت ہوا ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اس نے آنے والے سٹارٹ اَپس کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا ہے اور اِنڈیا کو عالمی سطح پرسر فہر ست اِداروں میں جگہ دینے میں اہم کردار اَدا کیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر یوٹی حکومت سٹارٹ اَپس کو اَپنے کاروبار کو مضبوط او رفروغ دینے کے لئے ایک قابل پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لئے پوری طرح پُر عزم ہے ۔ 2018ء کی سٹارٹ اَپ پالیسی پر نظر ثانی جموںوکشمیرمیں ایک ہمہ جہت اور دیر پا سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم بنانے کی ایک ایسی ہی کوشش ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ پالیسی دُنیا بھرمیں ہونے والی پیش رفت کے مطابق ہوگی۔اُنہوں نے جے کے اِی ڈی آئی کو جموںوکشمیر میں سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کی سمت کام کرنے پر مبارک باد دی۔ڈائریکٹر جموںوکشمیر اَنٹرپرینیور شپ ڈیولپمنٹ اِنسٹی چیوٹ ( جے کے اِی ڈی آئی )اعجاز احمد بٹ نے اِس تقریب کے اِنعقاد کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس سے جموںوکشمیر کے نوجوانوں کو کس طرح فائدہ ہوگا۔اُنہوں نے کہا ،’’ جموں و کشمیر کا سٹارٹ اَپ ماحولیاتی نظام ملک کے بڑھتے ہوئے سٹارٹ اَپ کلچر سے ایک اشارہ لے کر مسلسل بڑھ رہا ہے۔پرنسپل سیکرٹری کی رہنمائی اورتعاون کے تحت جموںوکشمیر یوٹی ایک تبدیلی کا مشاہدہ کرہا ہے ۔‘‘ اُنہوں نے جموںوکشمیر میں ایک مضبوط سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم بنانے میں اہم کردار اَدا کیا ہے۔ڈائریکٹر نے مزید کہا،’’ ہمارے مہمان خصوصی پیارے ضیاء خان ہمارے لئے ایک تحریک ہیں اور سخت محنت اور لگن کا نتیجہ ہیں ۔ اِس سے سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے ۔مجھے یقین ہے ہ یہاں موجود سٹارٹ اَپ اس سیکھنے کو لیں گے اور اسے مستقبل میں اَپنے کاروبار میں عملایا کریں گے ۔ اِنسٹی چیوٹ سٹارٹ اَپس کے فائدے کے لئے اِس طرح کے مزید پروگرام منعقد کرے گا۔‘‘کلیدی مقرر پیارے ضیاء خان نے سامعین کو کچی آبادی سے ایک کامیاب کاروباری شخص تک کے اَپنے سفر کے بارے میں روشنی ڈالی ۔اُنہوں نے کہاکہ میرے پاس پیسہ نہیں تھا اور وہ ایک غریب گھرانے سے تھا لیکن کچھ بڑا کرنے کا میرا جذبہ ہمیشہ مجھے راستے پر رکھتا ہے ۔ شروع میں ،میں ایک رکشا ڈرائیو ر تھا لیکن اَب میں تقریباً600 کروڑ مالیت کا ٹرانسپورٹ کاروبار کا مالک ہوں۔ آئی آئی ایم احمد آباد نے مجھ پر کیس سٹیڈی کی ۔ پہلے تو میں ڈرتا تھا ارو اس سے بچتا تھا کیوں کہ میں اَپنی زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا تھا ۔وہ چیلنج بعد میں میں نے جیت لیا۔ میں نے عالمی سطح پر 150 سے زیادہ ایوارڈ ز جیتے ہیں ۔ اگر میں ایک کامیاب کاروباری بن سکتا ہوں، تو کوئی بھی کرسکتا ہے۔کنکلیو میں جموںوکشمیر یوٹی بھر کے مختلف شعبوں سے زائد اَز 200سٹارٹ اَپس او رکاروباری اَفراد نے شرکت کی ۔ کالم نگار اور سماجی کارکن ڈاکٹر راجا مظفر بٹ نے اَپنے تجربے کا اشتراک کیا او رسٹارٹ اَپس کے لئے اس کنکلیو کے اِنعقاد کے لئے ڈائریکٹر جے کے اِی ڈی آئی اعجاز احمد بٹ کی کوششوں کو سراہا۔کنکلیو نے رہنمائی کے سیشنز اور گول میز مباحثوں کی میزبانی کی جہاں سٹارٹ اَپس او رخواہشمند کاروباری اَفراد نے پیارے ضیاء خان او رصنعتی دیگر رہنمائوں کے ساتھ اِستفساری گفتگو کی۔سیشنز سٹارٹ اَپ ، ایکو سسٹم سپورٹ اور فنڈنگ کے بارے میں تھے جہاں سٹارٹ اَپ کے بانیوں نے دیگر قیمتی سیشنوں میں فنڈز اِکٹھا کرنے کے مختلف طریقوں کے بارے میں سیکھا ۔اِس میں مقررین کے سفر اور اِن چیلنجوں پر روشنی ڈالی گئی جن سے اُنہوں نے معاشرے میں تبدیلی لانے کی کوشش کی۔کنکلیو کا مقصد مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اُبھرتے ہوئے کاروباری اَفراد کو سمت ،اُمید دینے اور ان میں یہ یقین پیدا کرنے پر منحصر ہے کہ ان کے مقاصد چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں ، ایسے اَفراد بھی ہیں جنہوں نے اَپنے عزائم کو پورا کرنے کا راستہ تلاش کیا ہے ۔ اس سے دوسروں کی زندگی میں اہم تبدیلیاں آئی ہیں۔