amit shah

پتھراؤ، فائرنگ ماضی کی بات ہے، اب دہشت گردی اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے

وقت پر جموں کشمیر کو سٹیٹ ہڈ دیا جائے گا اور اسمبلی انتخابات بھی ہوں گے ۔ امت شاہ

سرینگر//وزیر داخلہ امت شاہ نے نیشنل کانفرنس، پی ڈی اور اور کانگریس پرالزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان جماعتوں نے جموں کشمیر کو مشکلات میں دھکیل دیا تھا اور اپنی سیاست کو چمکانے کیلئے انہوںنے دفعہ 370کا سہارا لیا تاہم بی جے پی کے لیڈران نے قربانیاں دیکر اس دفعہ کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیا ہے اور اب ’’افسپا ‘‘ ہٹانے کی باری ہے کیوں کہ اب کشمیرمیں پتھرائو ، نعرے بازی اور فائرنگ کے واقعات ماضی کی باتیں بن چکی ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ مودی سرکار کے دس سالوں میں سب سے زیادہ فائدہ جموں کشمیر کو ہوا ہے ۔ امت شاہ نے بتایا کہ جموں کشمیر کی ترقی کیلئے مودی سرکار نے کئی اقدامات اُٹھائے ہیں اور وہ دن دو ر نہیں جب کشمیر سے کنیا کماری تک ریل چلنے کا خواب بھی پوارا کیا جائے گا۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں میں بی جے پی لوک سبھا امیدواروں کے حق میں الیکشن مہم چلانے کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے بتایا کہ جموں کشمیر میں حالات کو معمول پر لانے کیلئے بی جے پی نے قربانیاں پیش کیں ہیں ۔ انہوںنے بتایا کہ امیت شاہ نے کہا کہ جموں میں قدم رکھتے ہی بی جے پی کارکنان شادمان ہوتے ہیں کیوں کہ اسی جماعت نے جموں کشمیر کی ترقی کیلئے دروازے کھولے ہیں۔ منگل کو جموں کے پالودا میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں پتھراؤ اور فائرنگ اب ماضی بن چکی ہے۔ اب ریاست میں دہشت گردی اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے۔اور جس طرح سے دفعہ 370ختم کیا گیا اسی طرح اب ’’افسپا‘‘ختم کرنے کی باری ہے کیوں کہ اب کشمیر میں ناہی پتھرائو ہوتا ہے اور ناہی بندوقوں کی گن گرج سنائی دیتی ہے اور ناہی اب کسی میں ہڑتال کی کال دینے کی ہمت بچ گئی ہے ۔ شاہ نے کہا کہ پی ایم مودی کے 10 سالوں میں سب سے زیادہ فائدہ جموں و کشمیر کو ہوا ہے۔ ایک وقت تھا جب ایسی محفلوں کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ پتھراؤ ہوا، فائرنگ ہوئی، بم دھماکے ہوئے، پاکستان سے ہڑتال کا اعلان ہوتا تھا تاہم اب دفعہ 370بھی ختم ہوا جس کے ساتھ پتھرائو ، ہڑتال اور دہشت گردی کا خاتمہ بھی ہوا ۔ شاہ نے بتایا کہ دہشت گردی اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے اور پتھر برسانے والے نوجوانوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ہیں۔امت شاہ نے کہا، ‘شیاما پرساد نے نعرہ دیا تھا، ‘ایک ملک میں دو ودھان، دو پردھان اور دو نشان نہیں چلیں گے’۔ آج جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا گیا ہے۔ پورے ملک کی طرح یہاں بھی ہمارا ترنگا بڑے فخر سے آسمان کو چھو رہا ہے۔ بہت مشکل وقت سے جدوجہد کرنے کے بعد بی جے پی لیڈروں نے جموں و کشمیر کی کشتی کومخدوش حالات کے بھنور سے باہر نکالا ہے۔شاہ نے کہاکہ ’’فاروق عبداللہ کہتے تھے کہ نریندر مودی کو 10 بار وزیر اعظم بننا چاہیے، لیکن آرٹیکل 370 کو نہیں ہٹایا جا سکتا۔ لیکن دوسری میعاد میں ہی جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کو ہٹا دیا گیا ہے۔شاہ نے محبوبہ مفتی کو گھیرتے ہوئے کہاکہ ‘محبوبہ کہتی تھیں کہ 370 کو ہٹایا جائے گا تو ترنگے کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ تم اور میں چلے جائیں گے لیکن ترنگا امر ہے، امر ہے… ہمیشہ رہے گا۔انہوں نے کہا کہ NC-PDP کہتی تھی کہ گوجر اور بکروال کے ریزرویشن میں کٹوتی کی جائے گی، لیکن ان کے ریزرویشن میں تبدیلی کیے بغیر پہاڑی برادری کو ریزرویشن دے دیا گیا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ مودی سرکار کے دس برسوں میں جموں کشمیر کی ترقی کیلئے متعدد اقدامات اُٹھائے جاچکے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب کشمیر سے کنیا کماری تک ریل چلنے کا کشمیریوں کا خواب بھی پورا ہوجائے گا۔ انہوںنے بتایا کہ آج بی جے پی کے ساتھ کشمیری نوجوان جڑ رہے ہیں جو کل تک اس جماعت میں شامل ہونے سے کتراتے تھے ۔ انہوںنے بتایا کہ بی جے پی نہ صرف لوک سبھا انتخابات میں کشمیراور جموں سے تمام نشستیں حاصل کرے گی بلکہ اسمبلی انتخابات میں بھی بھاجپا کے امیدوار کامیابی کے ساتھ ہمنکار ہوں گے ۔ امت شاہ نے زور دیکر کہا کہ وقت آنے پر جموں کشمیر کو سٹیٹ ہڈ کا درجہ دیا جائے گاور اسمبلی انتخابات بھی کرائے جائیں گے ۔