1965سے کوہل کا پانی استعمال کرتے آئے ہیں ، محکمہ اری گیشن نے اس کو بھی بند کردیا ۔ لوگوں کاالزام
سرینگر//اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ پالپورہ پٹن کے لوگ 1965سے کوہل کا پانی پینے ، نہانے اور دیگر ضروری کاموں کیلئے استعمال کرتے ہیں جبکہ آج تک اس علاقے کو نل کے ذریعے پانی فراہم نہیں کیا گیا ہے ۔ اگرچہ علاقہ کیلئے جل شکتی کی جانب سے ایک ایک سکیم کے تحت پانی فراہمی کیلئے واٹر پمپ نصب کیا گیا ہے لیکن گزشتہ چار سالوں سے یہ چالو نہیں کیا جارہا ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جس کوہل سے یہ لوگ پانی استعمال کرتے تھے اس کو محکمہ اری گیشن نے کسی ضروری مرمت کیلئے بندکردیا ہے ۔ اس ناانصافی کے خلاف علاقہ کے لوگوںنے محکمہ کے خلاف سخت ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق شمالی کشمیر کے پٹن قصبہ کے پالپورہ کے رہائشیوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور وہ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق وہ 1965سے کوہل کا پانی استعمال کرتے ہیں اور آج تک اس گائوںمیں نل کے ذریعے پانی فراہم نہیں ہوا ہے ۔ لوگوں نے بتایا کہ اس دور جدید میں جب ناصاف پانی کے استعمال سے کئی طرح کی بیماریاں پکڑ لیتی ہے وہ ندی کا پانی استعمال کرنے پر مجبور تھے لیکن حالیہ دنوں میں محکمہ آبپاشی کی جانب سے ندی کا پانی اوپر سے بند کر دیا گیا، جس کے باعث ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پچھلے تین دنوں سے ندی کا پانی بھی دستیاب نہیں، جس کے نتیجے میں ان کی روزمرہ کی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔وائس آف انڈیا کے نمائندے عاشق تلگامی نے اس حوالے سے محکمہ پی ایچ ای کے اے ای ای پٹن سے رابطہ کیا تو انہوں نے یقین دلایا کہ پانی کی ایک گاڑی فوری طور پر گاؤں بھیجی جائے گی۔ گاڑی گاؤں پہنچی اور چند گھروں کو پانی فراہم کیا گیا تاہم مقامی لوگوں نے اس عارضی اقدام کو ناکافی قرار دیا۔گاؤں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں مستقل بنیادوں پر پانی کی فراہمی کا بندوبست چاہیے تاکہ ان کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ پانی کے مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے اور ان کی مشکلات کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے۔ادھر مقامی لوگوں نے اس معاملے کو ایک انسانی معاملہ قراردیتے ہوئے سماجی انجمنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو زیادہ سے زیادہ اُٹھائیں تاکہ اس دور جدید میں پانی سے محروم علاقہ کوپانی کی فراہمی یقینی بن جائے ۔










