ٹریفک حادثات کاتشویشناک پہلو:فوتگی کی سالانہ شرح820

9برسوں میں7378قیمتی انسانی جانیں تلف ، 34ہزار590افراد زخمی

سری نگر://جہاں تک گزشتہ9،برسوں یعنی سال2013 سے 2021تک ہوئے سڑک حادثات کاتعلق ہے تواعداد وشمار نہ صرف چوکنا دینے والے ہیں ،بلکہ ہیبت ناک اورتشویشناک بھی ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق ٹریفک پولیس کے مرتب کردہ اعدادوشمارمیں درج ہے کہ سال2013میں 6469 سڑک حادثات رونما ہوئے ،جس کے نتیجے میں990افراد ہلاک اور 8681 زخمی ہوگئے ۔سال2014 میں5861 حادثات پیش آئے ،جن میں 992 افراد فوت اور 8043 زخمی ہوئے۔سال2015میں 5836 سڑک حادثات ہوئے ،جن میں 917 افراد ہلاک اور8142زخمی ہوگئے ۔اعدادوشمار کے مطابق سال 2016میں رونماہونے والے5501 سڑک حادثات میں 954 افراد ہلاک ،اور7677زخمی ہوگئے ۔اسی طرح سے سال2017میں 5624سڑک حادثات رونماہوئے ،جسکے نتیجے میں 92 افراد ہلاک اور 7419زخمی ہوئے۔سال2018میں رونماہوئے5978 سڑک حادثات میں984افرادہلاک اور7845زخمی ہوگئے ۔سال2019میں 5796سڑک حادثات رونماہوئے ،جن میں 996 افراد فوت اور 7532 زخمی ہوگئے جبکہ سال2020میں رونماہونے والے 4860 سڑک حادثات کے دوران 728 افراد ازجان اور5894 زخمی ہوگئے۔سال2021میں5060سڑک حادثات رونماہوئے ،جن میں725 افراد ازجان اور5900 زخمی ہوگئے۔ٹریفک پولیس حکام کاکہناہے کہ جموں وکشمیر کے شہری ودیہی علاقوں میں بڑھتے ہوئے سڑک یاٹریفک حادثات کی بنیادی وجوہات میں تیز ڈرائیونگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ تیز رفتار ڈرائیونگ کرنے کیساتھ ساتھ اکثر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں جس کے نتیجے میں حادثات رونما ہوتے ہیں جو بعض اوقات جان لیوا بھی بن جاتے ہیں۔تاہم حکام مانتے ہیں کہ موقع پر ہی چالان اور سپیڈ گنز حادثات کو روکنے کیلئے اہم ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو ٹریفک سینس کو فروغ دینا چاہیے۔ٹریفک پولیس حکام کایہ بھی کہناہے کہ جموں و کشمیر میں ہٹ اینڈ رن کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن اس معاملے میں، سارا قصور ٹریفک پولیس کا نہیں ہے جو ٹریفک نظام کو چلانے کے لئے سڑک پر رہتا ہے۔ موٹر وہیکل ڈیپارٹمنٹ (MVD) کو ایک اہم کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ یہ واحد محکمہ ہے جس کے پاس لائسنس معطل کرنے کا حق ہے۔حکام کہتے ہیں کہ تیز رفتار ڈرائیونگ کو روکنا حفاظتی آلات کے بارے میں ہے۔ہمیں مداخلت کرنے والی گاڑیاں، حفاظتی گاڑیاں، تیز رفتار کیمرے اور دیگر جدید ترین گیجٹس کی ضرورت ہے۔ ماہرین سوال کرتے ہیں کہ ہمیں اسبات کی حیرت ہے کہ ٹریفک ڈیپارٹمنٹ جدید ترین آلات کی خریداری کیلئے فنڈز کیوں استعمال نہیں کر رہا ہے۔