وولر جھیل میں سنگھاڑا کی اچھی پیداوار سے ماہی گیروں میں خوشی

گاؤں کی بیشتر آبادی ماہی گیر طبقے سے وابستہ،ولر جھیل سے مچھلی اور سنگھاڑہ کا کاروبار کرکے اپنا گزر بسر کرتے ہیں

سرینگر/// شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے ولر جھیل میں رواں برس سنگھاڑا کی اچھی پیداوار ہونے سے ماہی گیروں میں خوشی کی لہر ہے۔ ماہی گیر ولر جھیل سے ہی اپنی روزی روٹی کا انتظام کرتے ہیں۔ کشمیر میں سنگھاڑا بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے جس کی وجہ یہ کافی مہنگا فروخت ہوتا ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق شمالی ضلع بارہمولہ اور بانڈی پورہ کے درمیان ایک گاؤں زرمنز وٹلب واقع ہے۔ اس گاؤ کی بیشتر آبادی ماہی گیر طبقے سے وابسطہ ہے جو ولر جھیل سے مچھلی اور سنگھاڑہ کا کاروبار کرکے اپنا گزر بسر کرتے ہے۔دراصل زرمنز گاؤں کے لوگ ولر جھیل کے کنارے پر مقیم ہیں اور وہ ولر جھیل سے ہی اپنی روزی روٹی کا انتظام کرتے ہیں۔ یہاں مقیم ماہی گیر سنگھاڑوں کے ساتھ ساتھ مچھلی کا بھی کاروبار کرتے ہیں۔ کشمیر میں سنگھاڑا بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے جس کی وجہ یہ کافی مہنگا فروخت ہوتا ہے۔اس سلسلے میں وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے مقامی ماہی گیروں نے بتایا کہ اس سال سنگھاڑا کی بہترین پیداوار ہوئی ہے اور اس وقت ریٹ بھی اچھی خاصی ہے۔ مارکٹ میں ایک کلو سنگھاڑا تقریبا پچاس روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ماہی گیروں نے بتایا کہ وہ غریب لوگ ہیں اور جھیل سے ہی اپنا گزارا کرتے ہیں۔ اس حکومت کو چاہیے کہ وہ ولر جھیل کی تحفظ کے لیے سنجیدہ ہوں، کیونکہ ہم اسی ولر جھیل سے اپنی رندگی کا گزارا کرتے ہیں۔