سرینگر//وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے ہوکر سر ویٹ لینڈ میں پانی کی بڑھتی ہوئی سطح کی وجہ سے کسانوں کو پہنچے نقصانات کا جائیزہ لینے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ طلب کی ۔ میٹنگ میں ڈویژنل کمشنر کشمیر ، چیف انجینئر آبپاشی و فلڈ کنٹرول اور وائلڈ لائف وارڈن ویٹ لینڈ کشمیر نے شرکت کی ۔ متعدد علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد کسانوں جن میں سوئبُگ ، گوٹا پورا ، دھارمونا ، حاجی باغ ، ہاکر مولہ اور سید پورہ بڈگام شامل ہیں ، انہیں شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔کیونکہ ان کی کاشت کی جانے والی زمین طویل عرصے سے ڈوبی ہوئی ہے ۔ فصلوں کی بروقت بوائی کے بعد کاشتکار اپنی روزی روٹی کو برقرار رکھنے کیلئے جدو جہد کر رہے ہیں ۔ بہت سارے دیہاتی اس بحران کو حل کرنے کیلئے فوری مداکلت کے خواہاں ہیں ۔ مباحثوں کے دوران عہدیداروں نے اس مسئلے کی شدت کو تسلیم کیا اور فوری کارروائی کی ضرورت پر زور دیا ۔ ایک طویل مدتی حل تلاش کرنے کیلئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ریونیو ، ایری گیشن اور وائلڈ لائف محکموں سے تعلق رکھنے والے افسران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔ کمیٹی متاثرہ علاقوں کی تفصیلی حد بندی کرے گی اور کھیتوں کو مزید نقصان کو روکنے کیلئے اقدامات کی تجویز کرے گی ۔ مشیر نے کسانوں کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے خدشات کو دور کرنے کیلئے پرعزم ہے جبکہ ہوکر سر ویٹ لینڈ کے ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کو یقینی بنایا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے گی جس سے معاش اور ماحول دونوں کی حفاظت ہو گی ۔










