اہم تنصیبات کے مؤثر طریقے سے کا م کرنے اور موسم سے متعلق چیلنجوں کے فوری اَزالے پر زور
سری نگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صوبہ کشمیر میں ضروری خدمات کی بلاتعطل فراہمی اور اہم تنصیبات کے کام کاج کو یقینی بنانے کے لئے سول سیکرٹریٹ سری نگر میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں مختلف محکموں کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا تاکہ سخت سردی کی صورتحال بالخصوص وادی ٔکشمیر اور صوبہ جموںکے برف پوش علاقوں میں درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے تیاری کی جاسکے۔میٹنگ میںنائب وزیرا علیٰ سریندر کمارچودھری، وزیربرائے صحت سکینہ اِیتو، وزیربرائے جل شکتی و قبائلی امور جاوید احمد رانا، وزیربرائے زراعت و دیہی ترقیات وپنچایتی راج جاوید احمد ڈار، وزیر برائے خوراک ، شہری رسدات و امورِ صارفین و ٹرانسپورٹ ستیش شرما اور وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے بذریعہ ورچیول موڈ شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ محکموں کے موسم سرما کی تیاریوں کے اَقدامات کا محکمہ وار جائزہ لیا۔اُنہوں نے شدید موسمی حالات میں عوام کی تکلیف کو کم کرنے کے لئے ایک مضبوط میکانزم کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعلیٰ نے ضلعی سطح پر تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے ضلع ترقیاتی کمشنروں کے سے بھی رابطہ کیا اور اُن پر زور دیا کہ وہ موسم سے متعلق چیلنجوں کے لئے بروقت اور مؤثر ردِّعمل کو ترجیح دیں۔ وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے ضروری تنصیبات کے معمول کے کام کاج کو یقینی بنانے کے لئے اَفراد اور مشینری کو تیاری کی حالت میں رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔اُنہوں نے محکموں کو ہدایت دی کہ وہ بلا تعطل تجارت، ٹرانسپورٹ اور اَشیائے ضروریہ کی فراہمی کو ترجیح دیں جبکہ برفباری، پانی جمع ہونے یا بجلی کی بندش کی وجہ سے پیدا ہونے والی رُکاوٹوں کو دور کریں۔میٹنگ میں برف ہٹانے کے بارے میں اُنہیں جانکاری دی گئی کہ آر اینڈ بی ڈیپارٹمنٹ، ایس ایم سی، ایم ای ڈی، بی آر او اور این ایچ اے آئی نے بھاری برفباری سے نمٹنے کے لئے اضافی مشینوں کے ساتھ کافی تعداد میں ہائی ٹیک سنو کلیئرنس مشینیں تعینات کی ہیں۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ بین الاضلاعی شاہراہوں اور ہسپتالوں، پاور گرڈوں، واٹر سپلائی سسٹم اور فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کی طرف جانے والی سڑکوں سمیت اہم راستوں کو صاف کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ راشن، پیٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس کا وافر ذخیرہ موجود ہے تاکہ مکینوں کی کئی ماہ کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔ اَضلاع میں بروقت تقسیم کو یقینی بنانے کے لئے اِضافی اِنتظامات کئے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ نے موسم سرما سے متعلق شکایات کو فوری طور پر نمٹانے کیلئے تمام اضلاع میں مشترکہ کنٹرول رومز قائم کرنے کی ہدایت دی۔اُنہوں نے عوام کی تکلیف کو کم کرنے اور ضروری خدمات کی بغیر کسی رُکاوٹ کے فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ایک تیز ر دِّعمل نظام کی اہمیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے صحت شعبے کی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ صحت کو ہدایت دی کہ تمام ہسپتالوں میں ادویات، آکسیجن سلنڈروں اور ایمرجنسی سپلائی کا وافر سٹاک یقینی بنایا جائے۔اُنہوں نے صحت سہولیات میں فعال مرکزی ہیٹنگ سسٹم کو برقرار رکھنے اور برف پوش علاقوں میں طبی عملے کی تعیناتی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔دُور دراز اور دور افتادہ علاقوں میں حاملہ خواتین کو ٹرانسپورٹ سروس فراہم کرنے کی ہدایات دی گئیں۔وزیر اعلیٰ نے موسم سرما کے دوران بجلی کی بلاتعطل فراہمی کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کے پی ڈِی سی ایل کے اِنجینئروں کو ہدایت دی کہ وہ بجلی کی بحالی بالخصوص ضروری تنصیبات کو ترجیح دیں۔اُنہوں نے خراب ٹرانسفارمروں کو بروقت تبدیل کرنے اور فیلڈ سٹاف کو مناسب حفاظتی سامان کے ساتھ تحفظ فراہم کرنے پر زور دیا تاکہ مرمت کے کام کے دوران حادثات سے بچاجاسکے۔

وزیر اعلی عمر عبداللہ نے سڑک رابطہ اور مؤثر ٹریفک انتظام کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔اُنہوں نے ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ قومی شاہراہوں، مرکزی سڑکوں اور اندرونی راستوں پر برف ہٹانے کے لئے مناسب اَفرادی قوت اور آلات تعینات کریں تاکہ عوامی آواجاہی میں کم سے کم رُکاوٹ کو یقینی بنایا جاسکے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تمام محکموں پر زور دیتے ہوئے کہاکہ وہ سخت سردی کے حالات کے اثرات کو کم کرنے کے لئے ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں اور فعال اقدامات کریں۔ اُنہوں نے عوام کی مشکلات کو کم کرنے اور پورے خطے میں ضروری خدمات کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنانے کے اَپنے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعلیٰ نے محکمہ پی ایچ ای کو ہدایت دی کہ شدید موسمی حالات میں پانی کی قلت سے بچنے کے لئے متاثرہ علاقوں میں وافر مقدار میں واٹر ٹینکرز تعینات کئے جائیں۔اِس کے علاوہ اُنہوں نے محکمہ جنگلات کو ہدایت دی کہ برفباری والے علاقوں میں لکڑی کی مناسب فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکموں کے درمیان کوآرڈی نیشن کی اہمیت پر بھی زور دیا اور ضلعی کنٹرول روموں کو چوبیس گھنٹے فعال کرنے کی ہدایت دی تاکہ برف سے متاثرہ علاقوں میں غیر محفوظ آبادیوںبالخصوص حاملہ خواتین کا ریکارڈ برقرار رکھا جاسکے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ اِس طرح کے کیسز کو زچگی کی تاریخوں سے پہلے فوری طور پر زچگی مراکز میں منتقل کیا جانا چاہیے۔جن علاقوں میں سڑک بند ہونے کا اِمکان یا خدشہ ہے، وزیراعلیٰ نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ ایسے علاقوں کے لئے ہیلی کاپٹر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔دورانِ میٹنگ وزیراعلیٰ نے اِس بات کو اعادہ کیا کہ تیاری کے تمام منصوبے عملی اور قابل عمل ہونے چاہئیںاور آزمائش کے وقت ان کی تاثیر کو یقینی بنایا جائے۔اُنہوں نے بغیر کسی رُکاوٹ کے بین محکمہ جاتی کوآرڈی نیشن پر زور دیا اور ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ اُبھرتے ہوئے چیلنجوںسے فوری نمٹنے کے لئے فیلڈ اَفسران کے ساتھ باقاعدہ رابطہ رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے عوام کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔اُنہوں نے لوگوں کو یقین دِلایا کہ انتظامیہ سخت سردی کے چیلنجوں سے نمٹنے اور ضروری خدمات کو مؤثر انداز میں فراہم کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔میٹنگ میں انتظامی سیکرٹریوں،صوبائی کمشنر جموں، سینئر پولیس اور سیکورٹی افسران، ضلع ترقیاتی کمشنروں، ایس ایم سی اور جے ایم سی کے کمشنروں، بی آر او، این ایچ اے آئی اور دیگر محکموں کے افسران نے بھی شرکت کی جبکہ جموں اور دیگر ضلعی صدر مقامات کے افسران نے بذریعہ ویڈیو کانفرنس میٹنگ میں حصہ لیا۔دورانِ میٹنگ صوبائی کمشنر کشمیر اور صوبائی کمشنر جموں نے دونوں صو بوں میں پہلے سے موجود سرمائی تیاریوں کے بارے میں پرزنٹیشن پیش کی۔










