Dr mehboob beigh

وزیر اعظم دل سے اور دلی سے دوری کے وعدے اور عوام کے اعتبار کو بحال کریں : ڈاکٹر محبوب بیگ

سرینگر//پی ڈی پی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محبوب بیگ وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا ہے کہ دل اور دلی کی دوری کو مٹانے کے وعدے کو عملی جامہ پہناکر لوگوں کے اعتبار کو جیتنے کرنے کیلئے کسانوں کے قوانین منسوخ کرنے کی طرح جموں، کشمیر اور لداخ کے چھینے گئے آئینی حقوق کو بحال کیاجائے۔ کے این ایس کے مطابق پارٹی صدر دفتر پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محبوب بیگ نے کہاکہ حیدرپورہ میں جو دلخراش سانحہ ہوا اور اس پر پورے قوم نے جو درد محسوس کیا، وہ قابل سراہنا ہے اور پہلی بار ہم سب ایک ہوگئے اور آواز اٹھائی۔ انہوںنے کہاکہ ’’جو بے انصافی کشمیر میں ہوتی جارہی ہے، ہم روز روتے ہیں، روز ہمیں تکلیف پہنچتی ہے ، روز ایسے سانحات ہوتے ہیں، میں وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کرتا ہوں کہ یہ سنہری موقع ہے جو انہوںنے کہا تھا ’دل سے دوری، دلی سے دوری‘‘، اگر وہ واقعی یہ دل سے کہتے ہیں تو وہ آجائیں ، ہمارا درد بانٹے‘‘۔ انہوںنے کہاکہ میں بھارت کے دانشوروں، آزاد خیال کے لوگوں، سول سوسائٹی سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ مہرے بانی کرکے اسےTouch me notنہ سمجھے ، ہم بھی انسان ہیں، اگر پوری دنیا میں ایک نعرہ ہے Black Lives Matter، کیا کشمیر میں کشمیریوں کی زندگیوں کی کوئی قیمت نہیں ہے، ہم مشکلات کا سامنا کررہے ہیں‘‘۔ محبوب بیگ نے کہا کہ امریکہ میں سیاہ فاموں کیلئے آواز اٹھائی جارہی ہے، کشمیریوں کیلئے بھی آواز اٹھائی جائے۔ انہوںنے کہاکہ حیدرپورہ میں ہوئی ہلاکتوں کے واقعہ میں ایک نوجوان کی لاش ابھی بھی لواحقین کو نہیں سونپی گئی ، کیا ہمیں میت کو گھروالوں کو دلانے کیلئے ایک اور آواز اٹھانی ہوگی‘‘۔ ڈاکٹر محبوب بیگ نے کہاکہ ’اب اس بچہ کو دیکھ لیجئے جو بابا بابا کہتی تھی اوراس کو اپنے بابا کو 2بار دفن کرنا پڑا، مجھے آپ بتائے کہ دنیا کی تاریخ میں اور21ویں صدی میں آج کل یہ کہاں پر ہورہا ہے کہ کشمیریوں کا اب مطالبہ میتوں کی واپسی ہوگئی ہے، ہمیں لاشیں واپس لوٹائی جائیں‘‘۔ انہوںنے کہاکہ’ جوڈیشل مجسٹریٹ انکوائری اُس ملک میں بے معنی ہیں جہاں پر AFSPAنافذ ہو ، یہ تحقیقات کس نتیجہ پر منتج ہوگی، یہ ہم 30برسوں سے دیکھ رہے ہیں‘‘ ۔ڈاکٹر محبوب بیگ نے کہا’’ نریندر مودی ، جو کہہ رہے ہیں، دل سے دوری،دلی سے دوری کو مٹانا ہے تو اُن بچوں اور کنبوں کو یہ بھروسہ دلایا جائے جن کا بابا چھینا گیا،ان کو بھروسہ دلایا جائے جو حیدرپورہ واقعہ ہوا ہے، کشمیر کی سرزمین پر دوبارہ کبھی نہیں ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ ’ہم اعتبار کھوچکے ہیں، ہمیں اپنے آپ پر اعتبار نہیں رہا، جو حال ہمارے ساتھ ہوا ہے اور وزیر اعظم کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ بیوہ، بچوں اور متاثرہ کنبوں کے ساتھ درد بانٹے اور یہ اعتبار دلائیں کہ اب کے بعد ایسے واقعات کبھی رونما نہیں ہونگے، وہ تب ہوگاجب اس کی شروعات کی جائے اور جب وہ ہمیں کہیں گے کہ وہ جن لوگوں سے یہ چھوٹ ہوئی ہے، یہ غلطی ہوئی ہے، ہیومن Errorہوا ہے، مان لیجئے حالانکہ اس میں ہماری lives چلی گئی ،یہ وہ کبھی نہیں ہونے دینگے شاید آہستہ آہستہ اس ہم کو اس باتپہ اعتبار آئے گا‘‘۔جوڈیشل مجسٹریٹ انکوائری، جس حصہ میں دیش کے افسپا ہوگا، اس دیش میں تحقیقات کو کس نتیجہ پر پہنچے گے، یہ ہم 30سال سے دیکھ رہے ہیں، مودی جو کہہ رہے ہیں، دل سے دوری، بھروسہ دلائے، ان بچوں کو بھروسہ دلایا جائے جن کا بابا چھینا گیا، ان کو بھروسہ دلایا یہ واقعہ جو ہے، کشمیر کی سرزمین پر دوبارہ کبھی نہیں ہوگا، اعتبار دیں، ہم اعتبار کھوچکے ہیں، ہمیں اپنے آپ پر اعتبارنہیں رہا ہے، جو حال ہمارے ساتھ ہوا ہے، مودی کے پاس سنہری موقعہ، ہے، درد بانٹے بیوہ ، بچوں کے ساتھ درد بانٹے، ان کنبوں سے درد بانٹے، اور ہمیں یہ اعتبار یہ دیں کہ اب کے بعد ایسا کبھی نہیں ہوگا، وہ تب ہوگااس کی شروعات جب وہ ہمیں کہیں گے کہ وہ جن لوگوں سے یہ چھوٹ ہوئی ہے، یہ غلطی ہوئی ہے، ہیومن Errorہوا ہے، مان لیجئے حالانکہ اس میں ہماری lives چلی گئی ،یہ وہ کبھی نہیں ہونے دینگے شاید آہستہ آہستہ اس ہم کو اس باتپہ اعتبار آئے گا۔ڈاکٹر محبوب بیگ نے کہاکہ جیسا کہ کل وزیر اعظم نے کسانوں کے لئے جو قوانین بنائے تھے، انہیں منسوخ کیا گیا، وہ قابل تحسین ہے تاہم یہ کسی جماعت کی جیت نہیں ہے بلکہ یہ جمہوریت کی جیت ہے۔ڈاکٹر محبوب بیگ نے کہاکہ جو قانون پارلیمنٹ میں بنے تھے، ہم کو کہتے ہیں جو قانون پارلیمنٹ میں بنتے ہیں، وہ آخری قوانین ہوتے ہیں، میں 5اگست2019کے قوانین کی بات کرتا ہوں‘۔ انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ میں اکثریت سے جو قوانین بنتے ہیں، وہ طاقت نہیں ہے بلکہ طاقت لوگ اور کسان ہیں اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایسے ہی قوانین 5اگست2019کو پارلیمنٹ میںبھی بنائے گئے قوانین کے ذریعہ جموںوکشمیر کے آئین کی دھجیاں اڑائی گئی تھیں ، ہمارے آئین نے جو حقوق دیئے تھے، انہیں چھینا گیا۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی آئین سے Sacred Document اور کوئی Documentنہیں ہے، اُس کی لاج رکھنے کیلئے ، جیسے کل آپ نے لاج رکھی (کسانوں کے قوانین منسوخ کرکے)، کہ صرف پارلیمنٹ میں اکثریت ہے، وہ بنیاد نہیں ہے جمہوریت کی بلکہ جمہوریت کی بنیاد لوگوں کی آواز ہے‘‘۔ انہوںنے کہاکہ ’’میں امید کرتا ہوں جیسے کل آپ نے کسانوں کیلئے بنائے گئے وہ قوانین منسوخ کئے، اسی طرح اُن قوانین ،جس سے جموںکشمیر، لداخ کے لوگوں کے آئینی حقوق چھینے گئے، ان کو بھی منسوخ کریں گے اور ہم کو آپ جینے کی سانس لینے کا موقع دیں گے‘‘۔