جموں//نائب وزیر اعلیٰ سریندرکمار چودھری نے کہا کہ کشمیری مائیگرنٹ اورغیر مائیگرنٹ کشمیری پنڈتوں کے لئے وزیر اعظم خصوصی پیکیج کے تحت 6,000اَسامیوں میں سے اَب تک اِستفادہ کنندگان کو 5,868تقرری کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔وزیرموصوف ایوان میں آج رُکن اسمبلی ایم وائی تاریگامی کی طرف سے اُٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ مالی برس 2023-24 ء تک 5,724 اَسامیاں جاری کی گئی تھیں اور رواں مالی برس کے دوران اَب تک 144 اَسامیوں کے تقرری کے احکامات جاری کئے گئے ہیں جس سے 6,000میں سے 5,868 ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ باقی 132 اسامیاں مختلف مراحل میں ہیںجن میں سے 42 اَسامیاں عدالت میں زِیر اِلتوأ مقدمات کی وجہ سے رُکی ہوئی ہیں۔نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم نے سال 2009 ء میں وادی کشمیر میں کشمیری مائیگرنٹوں کی واپسی اور بحالی کے لئے 1618.40 کروڑ روپے کا پیکیج اعلان کیا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ اِس پیکیج میں ہائوسنگ، ٹرانزٹ رہائشی سہولیات، مائیگرنٹوں کے لئے نقد اِمداد کی فراہمی، طلباءکے لئے سکالرشپس، روزگار، باغبانی و زرعی شعبوں میں معاونت اور قرضوں پر سود کی معافی جیسے اقدامات شامل ہیں۔سریندر کمار چودھری نے مزید بتایا کہ دسمبر 2015ء میں وادی ٔکشمیر کے مختلف اَضلاع میں 6,000 ٹرانزٹ رہائش گاہوں کی تعمیر کی منظوری دی گئی تھی اور ان میں 5,160 فلیٹوں کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہے جن میں سے 3,120 فلیٹ جنوری 2025 ء کے آخیر تک مکمل ہو چکے ہیں جبکہ باقی 2,040 فلیٹ ابھی زیر تعمیر ہیں۔ اِس کے علاوہ بقیہ 840 فلیٹوں پر بھی جلد کام شروع ہونے کا اِمکان ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اِمدادی سہولیات میں اضافے کا معاملہ مرکزی حکومت کے ساتھ اُٹھایا گیا ہے تاکہ کشمیری مائیگرنٹوںکے نوزائیدہ بچوں کے حق میں 400 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 3,250 روپے ماہانہ کیا جائے جبکہ ہر کنبے کے لئے 13,000 روپے ماہانہ کی مقررہ حد کو برقرار رکھا جائے گا۔نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ بم دھماکوں اور آتشزدگی سے متاثرہ مائیگرنٹوں کی جائیدادوں کے لئے ایکس گریشیا معاوضہ متعلقہ آر اینڈ بی ڈیپارٹمنٹ اور تحصیلداروں کی جانچ کے مطابق تقسیم کیا جا رہا ہے۔ تاہم ایک لاکھ روپے کے اِبتدائی معاوضے کے علاوہ بقایا رقم کی ادائیگی کے حوالے سے کوئی نیا حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ کابینہ کے فیصلے کے تحت 2009 ء ( پہلی قسط ) میں 3,000 اور بعد میں دوسری قسط میں مزید 3000 اِضافی اَسامیاں معرض و جود میں لائی گئیں اور متعلقہ بھرتی ایجنسیوں کو بھیجی گئیں۔اُنہوں نے کہا کہ سال 2020 ء میں ان اَسامیوں کے پُر کرنے کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جس میں پتہ چلا کہ 1,997 اَسامیاں ابھی تک خالی ہیں۔ اِسی طرح اِن اَسامیوں کو مختلف محکموں سے واپس لے کرفائنانس ، زراعت، خوراک و شہری رسدات و اَمورِ صارفین اور ریونیو چار محکموںکو دوبارہ الاٹ کیا گیا۔
نائب وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ جونیئر اسسٹنٹ، لیگل سٹینوگرافر، جونیئر اِنجینئر اور ڈرافٹس مین (سول اورمیکینکل) کی اسامیاں بھی ان 1,997 واپس لی گئی اسامیوں میں شامل تھے۔اُنہوںنے کہا کہ حکومت نے مندروں اور زیارت گاہوں کے اِنتظام کے لئے کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی ہے، تاہم اِن مقامات کی حفاظت کے لئے مستقل نگرانی رکھی گئی ہے۔ اگر کسی مذہبی جائیداد پر کوئی خلاف ورزی ہوتی ہے تو متعلقہ حکام بروقت کارروائی کرتے ہیں جس میں ناجائز قبضے کا خاتمہ، جائیداد کی بحالی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی شامل ہے۔اِس موقعہ پر ارکان اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ رینہ، بشیر احمد ویری، الطاف احمد وانی، شوکت احمد گنائی، حسنین مسعودی، میر سیف اللہ، کلدیپ راج دوبے، بلونت سنگھ منکوٹیہ اور آر ایس پٹھانیہ نے ضمنی سوالات اُٹھائے۔










