وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے گاندربل میںزائد از 42.38 کروڑ روپے کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا اِفتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے گاندربل میںزائد از 42.38 کروڑ روپے کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا اِفتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا

وزیراعلیٰ نے گزہامہ پُل منصوبے کا جائزہ لیا اور دہائیوں سے رُکے منصوبے کی بروقت تکمیل کا یقین دِلایا

سری نگر//وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ضلع گاندربل میں42.38 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا اِفتتاح اور سنگ بنیاد رکھاجس کا مقصد صحت بنیادی ڈھانچے، سڑکوں کی رابطہ کاری، عوامی سہولیات، نوجوانوں کی سہولیات، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور سیاحت کی ترقی کو مضبوط بنانا ہے۔اُنہوں نے اپنے دورے کا آغاز بیہامہ گاندربل سے کیا اور اُنہوں نے وہاں محکمہ ثقافت کی جانب سے 4.83 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی لائبریری و ریڈنگ روم کا سنگ بنیاد رکھا۔ اِس منصوبے کو ضلع کے طالب علموں اور نوجوانوں کے لئے ایک جدید علمی و تعلیمی مرکز کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کئی اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا اِی۔اِفتتاح بھی کیا جن میں آہن ززنا، واسکورہ اور خواجہ باغ کندبل کے اندرونی رابطہ سڑکوں کی اَپ گریڈیشن،نبارڈ۔آر آئی ڈِی ایف کے تحت گوٹلی باغ سے بابا وائل تک لنک سڑکوں کی تعمیر و بہتری ، گاندربل میں سندھ ریور فرنٹ مرحلہ اوّل کی تعمیراور درسومہ مارکیٹ سے مصباح بابا محلہ، چیک پورہ ارہامہ تک سڑک کو چوڑا اور اَپ گریڈیشن شامل ہیں۔ ان منصوبوں کی مجموعی لاگت 15.36 کروڑ روپے ہے۔اُنہوںنے بیہامہ گاندربل میں سندھ فارسٹ ڈویژن کی نئی ڈویژنل آفس عمارت کا بھی اِی۔اِفتتاح کیا جس پر 1.11 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اِس عمارت سے محکمہ جنگلات کے اِنتظامی امور اور عوامی خدمات میں بہتری متوقع ہے۔
عمر عبداللہ نے ثقافتی ورثے کے شعبے میں مل شاہی باغ میں واقع تاریخی مسجد حمام اور ملحقہ تعمیرات کی بحالی، تحفظ اور ترقی کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا جس پر 5.01 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ اس منصوبے کا مقصد تاریخی و ثقافتی ورثے کا تحفظ اور ہیرٹیج سیاحت کو فروغ دینا ہے۔اُنہوں نے ڈِسٹرکٹ ہسپتال گاندربل میں 1.16 کروڑ روپے کی لاگت سے ایچ ڈِی ایف سی بینک کی سی ایس آر معاونت سے فراہم کردہ بون ڈیکسا سکین اور فائبروسکین مشینوں کا اِفتتاح بھی کیا۔ جدید تشخیصی مشینیں مریضوں کی جلد تشخیص اور بہتر علاج میں معاون ثابت ہوں گی۔بعد میں وزیراعلیٰ نے گڈورہ گاندربل میں گورنمنٹ کالج آف فزیکل ایجوکیشن میں 15.26 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے یوتھ ہوسٹل کا سنگ بنیاد رکھا جسے محکمہ تعمیراتِ عامہ مکمل کرے گا۔اُنہوں نے کالج احاطے دورے کے دوران جدید سپورٹس سائنس اور تربیتی آلات کی نمائش کا بھی معائینہ کیا جن میں میگنیٹک گیٹ اینالیسس سسٹم، فورس پلیٹس، باڈی سٹیٹ اینالیسس ٹولز، بیسک لائف سپورٹ یونٹس، سکیئنگ آلات، بولنگ مشینیں اور کوچنگ اینالیسس سافٹ ویئر شامل تھے۔ اُنہوں نے کالج اِنتظامیہ کی جانب سے طلبأکو جدید تربیتی سہولیات فراہم کرنے اور کھیلوں میں سائنسی طریقہ کار کو فروغ دینے کی سراہنا کی۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے گڑہامہ پُل کے تعمیراتی مقام کا بھی دورہ کیا اور اس طویل عرصے سے زیر اِلتوأ منصوبے کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہیں بتایا گیا کہ تکنیکی جانچ کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور پُل کا ڈیزائن تیار کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ منصوبے کو معیاری انداز میں مقررہ مدت اور منظور شدہ لاگت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد اس کا فائدہ پہنچ سکے۔مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے وزیراعلیٰ کا شکریہ اَدا کیا کہ اُنہوں نے ایک دہائی سے زائد عرصے سے رکے ہوئے اس پل منصوبے کو دوبارہ شروع کیا۔ وزیراعلیٰ نے لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے یقین دِلایا کہ حکومت لوگوںکو درپیش مشکلات سے بخوبی واقف ہے اور منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔اِس موقعہ پر نائب وزیراعلیٰ سریندر کمار چودھری ، وزیربرائے صحت سکینہ اِیتو، وزیربرائے جنگلات جاوید احمد رانا، وزیربرائے کھیل ستیش شرما، وزیراعلیٰ کے مشیرناصر اسلم وانی اور رُکن اسمبلی زڈی بل تنویر صادق بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ کے ہمراہ کمشنر سیکرٹری مکانات و شہری ترقی محکمہ، کمشنر سیکرٹری اَمور نوجوان و کھیل کود، کمشنر سیکرٹری ثقافت، چیف کنزرویٹر آف فارسٹس جموں و کشمیر، ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل، ایس ایس پی گاندربل، چیف اِنجینئر پبلک ورکس (آر اینڈ بی)، میڈیکل سپراِنٹنڈنٹ ضلع ہسپتال گاندربل اور دیگر سینئر افسران بھی تھے۔