جموں//وزیر برائے سماجی بہبود سکینہ اِیتو نے آج کہا کہ کوڑے کرکٹ کی موقع پر علیحدگی کو یقینی بنانے کے لئے میونسپل کمیٹی ڈورو اورویر ی ناگ کی جانب سے تمام گھروں میں دوہرے گھریلو کوڑا دان تقسیم کئے جا رہے ہیںجبکہ ضلع اننت ناگ کے تجارتی علاقوں میں بھی جڑواں کوڑے دان نصب کئے جا رہے ہیں تاکہ کوڑا کرکٹ کو الگ الگ جمع کیا جا سکے۔وزیر موصوفہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے قانون ساز اسمبلی میں جی اے میر کے اُٹھائے گئے سوال کا جواب دے رہی تھی۔ وزیرسکینہ اِیتو نے بتایا کہ گھریلو اور تجارتی اِداروں سے کوڑا کرکٹ اور کچرا اکٹھا کرنے کے لئے 8 ہوپرز (گاڑیاں) مستقل طور پر تعینات کئے گئے ہیںجو کوڑا کرکٹ اور کچرے کو ویری ناگ کے میٹریل ریکوری فیسلٹی (ایم آر ایف) پلانٹ تک پہنچاتے ہیں۔ یہاں اسے مزید خشک اور گیلے کوڑے میں الگ کیا جاتا ہے۔ خشک کوڑا رِی سائیکلنگ کے بعد فروخت کیاجاتا ہے جبکہ گیلے کوڑا کرکٹ اورکچرے کو نامیاتی کھاد بنانے کے لئے گڑھوں میں رکھا جاتا ہے۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ ڈورو اور ویری ناگ کے لئے 8 ہوپرز، 25 ٹرائی سائیکل اورسکر سے بھرا ایک ٹرک خریدا گیا ہے جبکہ صفائی ستھرائی اور ویسٹ مینجمنٹ کو الگ کرنے میں مزید بہتری کے لئے ویٹ برج، بیلنگ مشین اور شریڈر خریدنے کا منصوبہ ہے۔وزیرموصوفہ نے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ میونسپل کمیٹی ڈورو۔ویری ناگ کے لئے 4 ٹی پی ڈی کے 3 سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پلانٹس کی منظوری دی گئی ہے جبکہ ویری ناگ میں 4 ٹی پی ڈی کا ایک پلانٹ پہلے سے فعال ہے، جہاں خشک کچرے کو ایم آر ایف سہولیت پر پروسس کیاجاتا ہے اور گیلے کچرے کوپِٹ کمپوسٹنگ طریقہ کار کے ذریعے پروسیس کیا جاتا ہے ۔اُنہوںنے کہا کہ میونسپل کمیٹی الگ تھلگ کرنے کے طریقوںکو مسلسل بہتر بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کی شمولیت بڑھانے، بنیادی ڈھانچے کو اَپ گریڈ کرنے اور ویسٹ پروسسنگ کے لئے جدید حل اَپنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔وزیر موصوفہ نے بتایا کہ سوچھ بھارت مشن (اَربن) کے تحت جموں و کشمیر کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے شہروں میں میونسپل سالڈ ویسٹ کی سائنسی پروسسنگ کی گئی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ 78 سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سینٹروں (ڈبلیو ایم سیز) ،میٹریل ریکوری فیسلٹی (ایم آر ایف) اور کمپوسٹ پٹ کے قیام کی منظوری دی گئی ہے جن میں سے 52 مقامات پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ اَب تک 33 ویسٹ مینجمنٹ سینٹروں (ڈبلیو ایم سیز) ،میٹریل ریکوری فیسلٹی (ایم آر ایف) اور 30 کمپوسٹ گڑھے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ مزید 19 ڈبلیو ایم سیز،ایم آر ایفز اور 22 کمپوسٹ گڑھوں پر کام جاری ہے۔مزید برآں، وزیر نے بتایا کہ بھگوتی نگر، کٹھوعہ، سانبہ، اودھمپور، ترال، بیج بہاڑہ، پہلگام، اننت ناگ اور ٹنگمرگ جیسے مقامات پر ڈمپ سائٹس پر لیگیسی ویسٹ کا بائیو ریمیڈیشن کا کام مکمل کیا گیا ہے اور 3.88 لاکھ میٹرک ٹن ویسٹ کا بائیوریمیڈیشن کی جاچکی ہے۔اِس کے علاوہ جموں میونسپل کارپوریشن نے کوٹ بھلوال میں 6.16 لاکھ میٹرک ٹن لیگیسی ویسٹ کی بائیو ریمیڈیشن کے لئے کام،ڈِی یو ایل بی کے ذریعے 2.98 لاکھ میٹرک ٹن اورڈِی یو ایل بی جے کے 7 شہری بلدیاتی اداروں کے لئے 1.20 لاکھ میٹرک ٹن کوڑے کی بائیوریمیڈیشن کا کام الاٹ کیا ہے۔سرینگر کے اَچھن میں 11 لاکھ میٹرک ٹن وراثتی فضلے کی بائیو ریمیڈیشن کے لئے ٹینڈر بھی جاری کیا گیا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ پی ایم اے وائی ۔ اربن 2.0 ستمبر 2024 ء میں شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد اِی ڈبلیو ایس ، ایل آئی جی اور ایم آئی جی آمدنی والے طبقوں کے لئے مکانات کی تعمیر یا خریداری میں مالی مدد فراہم کرنا ہے۔ اس سکیم کے تحت اگلے پانچ برسوں میں مکانات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔اُنہوں نے بتایا کہ 2018 ء سے اَب تک ڈورو اور ویری ناگ میں مکانات کی تعمیر کے لئے 907.68 لاکھ روپے کے فنڈز جاری کئے جا چکے ہیں۔ 747 منظور شدہ گھروں میں سے 505 مکانات مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 161 مکانات زیر تعمیر ہیںجیسا کہ مرکزی وزارت برائے مکانات و شہری امور (ایم او ایچ یو اے) کے سی ایس اینڈ ایم سی ڈیٹا میں درج ہے۔










