کاشتکاروں میں کیوی کی نئی نئی اقسام کے پودے مقبول ہورہے ہیں
سرینگر// وادی کشمیر میں کسان، مختلف تنظیموں اور پھلوں کے پودے لگانے کے شوقین افراد کی باغیچے، اسکول اور عوامی زمین پر مسلسل گرافٹڈ پودے لگانے کی مانگ بڑھ رہی ہے جو اب سالانہ دس لاکھ کے آس پاس تک پہنچ گئی ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق اس مانگ میں صرف کشمیر میں ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں اضافہ ہوا ہے۔ کشمیر میں لاکھوں گرافٹڈ پھلوں کے پودے دستیاب کرائے ہیں اور اس کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ لوگوں میں کیوی کی نئی نئی اقسام کے پودے مقبول ہورہے ہیں۔وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق پہلے لوگ سیب اور ناشپاتی کے باغ لگانے پر توجہ مرکوز کرتے تھے لیکن اس برس زیادہ تر لوگ کیوی اور سٹابیری لگانے پر زور دے رہے ہیں۔ کیوی اور سٹابیری کی مانگ بھی مسلسل برقرار ہے۔ پرائیوٹ نرسیاں عام کی نئی قسموں کے نام پر ناقص قسم کے پودے لگانے کے اشیا کی سپلائی کرکے اضافہ شدہ مانگ کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ جعلسازی کا شکار لوگوں پر تین چار سال بعد فصل آنے پراصلیت آشکارہ ہوتی ہے۔بیدار افراد منظور شدہ قسموں کے پودوں کے سلسلے میں ہاٹیکلچر کا رخ کرتے ہیں جس کے سبب بھی پودوں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ سیب، ناشپاتی، چیری، آلوبخارا کی مختلف قسمیں لگانے کی چاہت برقرار ہے جبکہ مختلف اداروں میں جنگلات کے لئے مذکورہ قسموں کی مانگ میں کمی دیکھی جارہی ہے اور وہ پھلوں کے پودے لگانے میں دلچسپی لے رہے ہیں، جس سے ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ درختوں کی دیکھ ریکھ کرنے والوں کو پھل بھی حاصل ہوسکیں۔یہ بات غور کی جارہی ہے کہ شجر کاری کے بعد لوگ پھلوں کے پودے لگانے کے بعد اس کی دیکھ ریکھ توجہ سے کرتے ہیں۔ لوگ اب کم وقت میں پھل دینے والے پودے لگانے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ عام طور پر سیب کا عام درخت 8 سے دس برس میں پھلنے لگتا ہے لیکن اس کے گرافٹڈ پودوں چار پانچ سال میں ہی پھل دینے لگتے ہیں۔عام لوگ کسی بھی پودے کو لگانے سے پہلے ماحولیات کو ہونے والے فوائد کے مقابلے اس کی معاشی اہمیت پر توجہ دیتے ہیں۔ حال ہی میں کسانوں نے سیب کے ہزاروں گرافٹڈ پودے خریدے ہیں۔










