التجا مفتی جموں و کشمیر میں شراب پر پابندی کے لیے دستخطی مہم شروع کریں گی
سرینگر//پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی لیڈر اور محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجاء مفتی نے جموں کشمیر میں شراب کی خریدوفروخت پر مکمل پابندی کے حق میں ایک دستخطی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ التجاء مفتی نے کہا ہے کہ وادی کشمیر صوفی سنتوں کی سرزمین ہے جہاں پر اس طرح کی سماجی بُرائیوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ انہوںنے شراب کے علاوہ دیگر منشیات کے مکمل خاتمہ کیلئے بھی لوگوں کو آگے آنے کا مشورہ دیا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی رہنما التجا مفتی نے جموں کشمیر میں شراب کی خریدوفروخت پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا ہے ۔ معاشرے پر اس کے مضر اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ کی صاحبزادی نے جموں و کشمیر میں شراب پر پابندی کی وکالت کرتے ہوئے دستخطی مہم کا اعلان کیا ہے۔مہم ہفتہ کو سری نگر میں PDP دفتر میں صبح 11 بجے سے دوپہر 2 بجے کے درمیان شروع کی جائے گی، جس کا مقصد مجوزہ قانون سازی کے لیے عوامی حمایت کو متحرک کرنا ہے۔سوشل میڈیا پر بات کرتے ہوئے التجا مفتی نے خطے میں شراب اور منشیات کے بڑھتے ہوئے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوںنے کہا کہ شراب اور منشیات جموں و کشمیر میں زندگیوں اور خاندانوں کو برباد کر رہے ہیں۔ ہمیں اس کو ختم کرنے کے لیے اکٹھا ہونا چاہیے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے،‘‘ انہوں نے لوگوں سے مہم میں حصہ لینے کی اپیل کی۔یہ پہل اس وقت سامنے آئی ہے جب پی ڈی پی کے قانون ساز میر محمد فیاض نے پہلے ہی جموں و کشمیر اسمبلی میں شراب نوشی پر مکمل پابندی لگانے کا بل پیش کیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ بل آئندہ بجٹ اجلاس کے دوران پیش کیا جائے گا۔ مزید برآں، نیشنل کانفرنس کے قانون ساز احسن پردیسی نے بھی اسی طرح کا بل پیش کیا ہے، جو اس مسئلے پر بڑھتی ہوئی سیاسی رفتار کی نشاندہی کرتا ہے۔شراب پر پابندی کے مطالبے نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے، حامیوں نے صحت عامہ اور سماجی استحکام کے لیے اس کے ممکنہ فوائد پر زور دیا ہے۔










