مسلسل درجہ حرارت میں کمی آنے کے باعث بیماریاں پھوٹ پڑنے کے خطرات میں قابل قدراضافہ /ماہرین
سرینگر//کشمیر وادی پوری طرح سے سردی کی لپیٹ میں وادی بھر میں موسم16دسمبر تک سرد اور خشک رہنے کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے محکہ موسمیات کے ڈائریکٹر نے کہاکہ فی الحال برفباری اور بارش کے آثار دکھائی نیہں دے رہے ہیں موسم خشک رہنے پرکسانوں اور باغ مالکان نے بھی ملاجلاردعمل ظاہر کیا۔باغ مالکان کے مطابق کٹائی اورشاخ تراشی کے لئے موسم ساز گار ہے تاہم کسانوں کے مطابق تلہن ،گیہوں او ر دوسری فصلیں بونے میں مشکلوں کاسامناکرنا پڑ رہاہے ۔زمین میں نمی باقی نہیں رہی ہے جسکی وجہ سے فصلوں کوبونے میں مشکلوں کاسامناکرنا پڑ رہاہے ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق محکمہ موسمیات نے 16دسمبر تک فی الحال موسم خشک رہنے کے امکانات ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ مغربی سمندرکی ہوائیں داخل ہونے کے امکانات ظاہر نہیں ہورہے ہیں ۔جس کے نتیجے میں برفباری یابارش کی گنجائش دکھائی نہیں دے رہی ہے اورمحکمہ موسمیات کے ڈائریکٹرمختار احمدکے مطابق درجہ حرارت میں مسلسل کمی آرہی ہے اور جنوبی کشمیرکے پہاڑی ضلع شوپیاں میںدرجہ حرارت منفی 6.تک گرگیا اور رات کا درجہ حرارت منفی چار اور تین ڈگری ریکارڈ کیاگیا۔محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر نے کہاکہ برفباری اور بارش کی بہت کم گنجائش ہے آسمان ابرآلودرہے گااور سردی میں کئی دنوں تک مزید اضافے کے امکانات کو خارج نہیں کیاجاسکتاہے ۔ادھروادی پوری طرح سے سردی کی لپیٹ میں ہے بجلی کی عدم دستیابی پینے کے پانی کی قلت سے لوگوں کو مزیدمشکلات کاسامناکرنا پڑاہے ،جب کہ ماہرین کے مطابق مسلسل موسم خشک رہنے سے بخار ،پیٹ درد ،گلے کی خرابی ا و ردوسر ی بیماریاں پھوٹ پڑی ہے ،جبکہ عارض قلت شوگرمرض میںمبتلا مریضوں کے لئے یہ موسم انتہائی خطرناک ثابت ہورہاہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق چلہ کلاں شروع ہونے کے بعد بھی برف باری کے امکانات کی گنجائش ہے ۔ادھرکسانوں اور باغ مالکان نے موجوہ موسمی صورتحال پرملاجلارد عمل ظاہرکیاباغ مالکان کے مطابق موسم خشک رہنے کی صورت میں سیب کے باغوں میں شاخ تراشی ہورہی ہے اور درختوں سے گرنے والے پتوں کوجلانے کا موقع فراہم ہورہاہے تاکہ موسم بہار شروع ہونے کے دوران سیب کو سکیب کی بیماریوں سے محفوظ رکھاجاسکے ۔کسانوں کامانناہے کہ انہیں فصلیں ،تلہن ،گیہوں او ردوسرئے فصلیں بونے میں مشکلوں کاسامناکرنا پڑ رہاہے زمین میں نمی نہ ہونے کے باعث فصلوں کوبونے میں مشکلوں کاسامناکرنا پڑ رہاہے ۔










