پانچ برسوں تک مزید کولڈ سٹوروں کی رجسٹریشن پر پابندی لگائی جائے
سرینگر//وادی کشمیر میں 80کولڈ سٹوریج سٹوروں میں اس وقت میوہ جات کے 2کروڑ 40لاکھ سے زائد میوہ کریڈ موجود ہے جبکہ ہر سٹور میں 3لاکھ سے زائد کریڈ ہے ۔ کولڈ سٹوروں سے ایک ساتھ مال منڈیوں تک پہنچنے کی وجہ سے جمع شدہ مال کی قیمت نہ ہونے کے برابرآرہی ہے جس کی وجہ سے تاجروں اور کولڈ سٹوریج مالکان کو زبردست نقصان اُٹھانا پڑرہا ہے جنہوںنے سرکار سے اپیل کی ہے کہ اگلے 5برسوں تک مزید کولڈ سٹوریج سٹوروں کے قیام کو منظور نہ دی جائے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں میوہ صنعت سے ایک بہت بڑا طبقہ وابستہ ہے جو لاکھوں لوگوں کیلئے روزگار کا ذریعہ بھی ہے تاہم موجودہ وقت میں میوہ جات کی مارکیٹ میں قیمت کم آنے کی وجہ سے میوہ تاجروں کو شدید پریشانی ہورہی ہے ۔ معلوم ہواہے کہ وادی کشمیر میں اس وقت 80کولڈ سٹوریج سٹور موجود ہیں ۔ہر ایک سٹور میں 3لاکھ سے زائد کریڈ ہے جبکہ ان کولڈ سٹوریج سٹوروں میں 2کروڑ 40لاکھ کریڈ موجود ہے ۔ اس سلسلے میں کئی تاجروں اور کولڈ سٹوریج مالکان نے وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ مئی ، جون ، جولائی میں مارکیٹ میں مال پہنچ جاتا ہے اور مارکیٹ میں دو کروڑ کریڈ ہی کی مانگ ہوتی ہے اور جب چالیس لاکھ کریڈ زائد مال منڈیوں میں پہنچ جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں مال کی قیمت کم ہوجاتی ہے اور جو سیب کی پیٹی اس وقت 1500روپے کی ہونی چاہئے اس کی قیمت محض 300روپے ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ سرکار کی جانب سے مزید سٹوروں کو قائم کرنے کو منظوری دی جارہی ہے جس کی وجہ سے میو ہ تاجروں اور کولڈ سٹور والوں کو زبردست نقصان ہورہا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ پہلے ہی وادی میں بہت سارے کولڈ سٹوریج موجود ہے اور اضافی میوہ پہنچنے کی وجہ سے میوہ کی ریٹ کم ہوتی جارہی ہے ۔ تاجروں نے اس سلسلے میں ایل جی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ پانچ برسوں تک نئے سٹوروں کے قیام کو منظوری نہیں ملنی چاہئے تاکہ مارکیٹ میں میوہ جات کی قیمتیں اعتدال پر رہیں اور تاجروں اور کولڈ سٹوریج مالکان کو نقصان نہ ہو۔










