جموں صوبے میں پارہ 46ڈگری تک جا پہنچا ، سرینگر میں 33.3ڈگری ریکارڈ
سرینگر//وادی کشمیراور جموں صوبے میں درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ جموں صوبے میں درجہ حرارت 46ڈگری تک جاپہنچا جبکہ وادی کشمیر میں بھی گرمی کی شدت میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے ۔ جبکہ سرینگر میں 33.3ڈگری دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت درج کیا گیا جبکہ گلمرگ وادی کا کم درجہ حرارت والا علاقہ ریکارڈ درج ہوا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق کشمیر اور جموں کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے کئی ڈگری زیادہ* ریکارڈ کیا گیا، جس سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا اور عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سری نگر میں 33.3°C، قاضی گند میں *33.6°C، اور پہلگام میں 28.7°C درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا، جو عام موسم سے کئی ڈگری زیادہ ہے۔ اسی طرح، جموں ریجن میں جموں شہر میں 44.3°C، کٹرا میں 40.2°C، جبکہ بھدرواہ میں 33.0°C درجہ حرارت رہا۔ لداخ کے علاقوں میں بھی گرمی کی شدت محسوس کی گئی، جہاں لیہ 26.9°C اور کرگل 27.9°C کے ساتھ قدرے گرم رہا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گرمی کی یہ شدت عام موسمی روایات سے ہٹ کر ہے، اور اگلے چند دنوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ عوام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ زیادہ پانی پئیں، غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں، اور گرمی سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کریں۔گرمی کی شدت کے باعث محکمہ صحت نے شہریوں، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور حاملہ خواتین کو اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، جن میں دوپہر کے وقت دھوپ میں باہر نکلنے سے گریز، پانی زیادہ پینے، ہلکے کپڑے پہننے، اور سن سایہ استعمال کرنا شامل ہے۔ ماہرین نے جموں و کشمیر میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جہاں ایک ہی ماہ میں غیر متوقع برفباری اور گرمی کی شدید لہر دیکھی گئی۔دریں اثناء جموں میں دن بھر سڑکوں پر سناٹا چھایا رہتا ہے جبکہ وادی کشمیر میں بھی بازاروں اور سڑکوں پر لوگوں کی نقل و حمل کوم دیکھنے کو ملی تاہم سیاحتی مقامات پر لوگوں کا رش بھی دیکھنے کو ملا ہے ۔










