وادی میں خشک موسم سے نجات کا ایک ہی وسیلہ

لوگ توبہ استغفار اوردعائیہ مجالس کا اہتمام کریں /ڈاکٹر فاروق عبداللہ

سرینگر / /وادی میں خشک موسم کے چلتے ریاستی عوام ناگفتہ بہہ حالات ومشکلات سے دو چار ہیں ۔اس کے پیش نظر ماضی کی طرح اللہ کے حضور عجزوانکساری اورتوبہ استغفارسے ہی رحمت باراں کی امید کی جاسکتی ہے ۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابق نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹرفاروق عبداللہ خشک موسم کے منفی نتائج سے نجات پانے کے تئیں عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اللہ کا دامن مضبوطی سے پکڑ لیں کیونکہ وہی بہترین کارساز ہے ۔انہوں نے تمام علمائے کرام ،ائمہ مساجد ،زیارت گاہوں کے منصب داراں اورپیرومرشد حضرات سے گذارش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اولیاء اللہ کے درباروں میں موسم کی بہتری کیلئے نوافل اورتوبہ استغفار کی مجالس کا انعقاد کریں ۔خصوصاً دربار ریشیانِ کرام ؒ حضرت علمدارکشمیر ؒ چرارا شریف ،حضرت سلطان العارفین ؒ کے دربار پر پنجگانہ پر رحمت باراں کے لئے دعائیں کیا کریں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان دعائوں کو قبول فرما کر ہمیں رحمت باراں سے فیض یاب کرے ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مسلسل خشک موسم سے دریاء ،تالاب ،چشمے اوردیگر پانی کے ذرایعے سوکھ چکے ہیں جس کی وجہ سے بجلی کی سپلائی میں بھی کمی آتی جارہی آتی جارہی ہے ۔ہمیں اللہ تعالیٰ کے احسان ،رحمتوں برکتوں اور فیوضات کا شکربجا لانا چاہئے ۔کیونکہ آبی ذخیرے ہمارے لئے باعث رحمت ہوتے ہیں لیک ن کو ہم نے اپنے ہی ہاتھوں برباد کر ڈالا ہے ۔دریائوں کے کنارے پر ناجائز تجاوزیزات اورجھیلوں وچشموںکو ناپید ہی کردیا گیاہے ۔انہوں نے تمام لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ آبی ذخائر کے تحفظ اورصفائی کیلئے ہر کوئی آگے آئیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی یہ رحمت محفوظ رہ سکے ۔ادھر ڈاکٹر فاروق نے امید ظاہر کی ہے کہ موجودہ عوامی سرکار لوگوں کو ہر سطح پر راحت پہنچانے کی کوشش کرے گا جو ہمارا فرض بنتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندہ سرکار گورنر راج کا متبادل نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ ایل جی راج کے دس سال میں بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا ہے ۔