آبی پناہ گاہوں میںرنگ برنگے مہمان پرندوں کی خوشنما چہچہاہٹ
سرینگر// کشمیر میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی، نقل مکانی کرنے والے پرندے سخت موسمی حالات سے بچنے کے لیے آبی پناگاہوں کی طرف آنا شروع ہوگئے ہیں۔ محکمہ جنگلی حیات کے حکام کے مطابق، سینکڑوں پرندے، خاص طور پر مالارڈ اور گڈوال جیسی اقسام، ہوکرسرآبی پناہ گاہ میں پہنچ چکے ہیں۔حکام نے بتایا کہ جیسے جیسے درجہ حرارت میں کمی آئے گی، ان پرندوں کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔ مالارڈ، گڈوال اور دیگر پرندے وادی کی جھیلوں اور دلدلوں میں تقریباً 5 ماہ تک رہتے ہیں، جو ہر سال یہاں کی خوبصورتی اور حیاتیاتی تنوع میں اضافہ کرتے ہیں۔سائبیریا، چین اور مشرقی یورپ سے ہجرت کرنے والے 90 سے زائد پرندوں کی اقسام، جیسے کہ کامن ٹیلز، بٹرن، گرے لیگ گیز، پنٹیلس، شاوولرز، ٹیفٹڈ بطخیں اور کارمورینٹس، وادی کے آبی علاقوں میں آتی ہیں۔ گزشتہ موسم سرما میں 10 لاکھ سے زائد پرندوں کی آمد ریکارڈ کی گئی تھی۔تاہم، غیر قانونی شکار کا مسئلہ محکمہ جنگلی حیات کے لیے ایک چیلنج ہے۔ حکام نے کہا کہ انہوں نے غیر قانونی شکار کے خطرے سے دوچار علاقوں کی نشاندہی کر لی ہے اور ان کی حفاظت کے لیے نگرانی بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وادی کی آبی پناہ گاہیں ہجرت کرنے والے پرندوں کے لیے ایک اہم پناہ گاہ فراہم کرتی رہیں گی، جس سے وادی کی قدرتی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوگا۔شاہراہ آفاق جھیل ڈل اس وقت دنیا بھر سے آئے ہوئے ہزاروں مہاجر پرندوں کے مسکن میں تبدیل ہوچکا ہے۔ جھیل ڈل میں موجود مختلف اقسام کے20ہزار سے زائد مہمان پرندوں کی چہچاہٹ سے کانوں میں منفرد موسیقی کا احساس ہوتا ہے سائبریا ،یورپ،وسطی ایشا اور قزاکستان سے آئے ہوئے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ ڈیڑھ ماہ میں مزید مہمان پرندوں کی آمد متوقع ہے۔رنگ برنگی پرندوں کی دل کو چھونے والی صورت سیاحوں اور لوگوں کو گھنٹوں جھیل ڈل کے کنارے پر ان کا دیدار کرنے کیلئے مجبور کر رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مہمان پرندوں میں’’گاڑ وال(بُڑن)،مالاڑ( نیلج)،ناردرن پن ٹیل(سوکھ پھچن)، کامن پوچاڑ ناردرن شاولر(تُر)،کامن ٹیل(کیوس)،روڈی شل ڈک(سکو)، گارگنی‘‘ اور دیگر اقسام کے پرندے موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مہاجر پرندیاکتوبر کے آخری ہفتے میں وادی میں اپنی آمد کا سلسلہ شروع کرتے ہیں کیونکہ وادی میں انکے قدرتی مسکن سائبریا،چین جاپان اور قطب شمالی کے دیگر ملکوں میں منجمند درجہ حرارت کے برعکس وادی میں انہیں بہتر موسم میسر ہوتا ہے۔یہ مہاجر پرند اپریل تک وادی کے مختلف آبی ذخائر کو یہ اپنا گھر بناتے ہیں۔ متعلقہ محکموں نے ان پرندوں کا شکار کرنے کی کوششوں کو روکنے کیلئے اپنے عملے کو بھی متحرک کیا ہے،جبکہ محکمہ وائلڈ لائف ان پرندوں کیلئے درکارغذائوں کا انتظام بھی کر رہی ہے۔جھیل ڈل ہی نہیں بلکہ جھیل کے ارد گرد دیگر آبی ذخائر میں بھی یہ مہمان پرندے اپنی خوشنما آواز سے سیاحوں اور عام لوگوں کے دلوں میں اتر رہے ہیں۔ جھیل ڈل میں ایک کشتی بان حاجی ولی محمد نے کہا کہ جھیل میں ان پرندوں کی چہچاہٹ سے ایک نیا ماحول نظر آتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اس موسم میں ان پرندوں کو دیکھنے کیلئے کافی تعداد میں سیلانی جھیل ڈل میں موجود ہاوس بوٹوں میں رہنا پسند کرتے ہیں تھے،تاہم گزشتہ2برسوں سے یہ سلسلہ تھم گیا۔ان کا کہنا تھا’’ دن بھر کشتیوں میں کافی تعداد میں سیلانی کشتیوں میں جھیل ڈل کی سیر کرتے تھے اور ان مہمان پرندوں کا دیدار کرتے تھے،تاہم گزشتہ برس کے بعد امسال بھی ایسا دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے‘‘۔










