خاندانی سیاست اور اقرباپروری کے خلاف بھی آوازیں بلند ہونے لگیں/ سنیل شرما
سرینگر / / این این بی // نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بی جے پی کے سینئر رہنما سنیل شرما نے نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کابینہ توسیع کے بعد پارٹی کے اندر پیدا ہونے والی ناراضگی آنے والے دنوں میں ایک بڑے سیاسی بحران کی شکل اختیار کرسکتی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف نیشنل کانفرنس بلکہ موجودہ حکومت کا وجود بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق کشتواڑ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا کہ انہیں پہلے ہی اندازہ تھا کہ کابینہ میں توسیع کے بعد ان اراکین اسمبلی میں ناراضگی پیدا ہوگی جنہیں وزارتی عہدوں سے محروم رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کابینہ میں شامل نہ کیے جانے والے اراکین اسمبلی کی بے چینی اور پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی بے اطمینانی حکمران جماعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔قائد حزب اختلاف نے اپنے بیان میں کہا کہ جس روز کابینہ میں توسیع کی گئی تھی، اسی روز انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ یہ نیشنل کانفرنس کے زوال کی شروعات ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آنے والے وقت میں نیشنل کانفرنس تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گی اور موجودہ حکومت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے گی۔سنیل شرما نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے اندر پیدا ہونے والی ناراضگی محض وزارتیں نہ ملنے تک محدود نہیں ہے بلکہ پارٹی میں خاندانی سیاست اور خاندان کی حکمرانی کے خلاف بھی عدم اطمینان بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کے بعض اراکین اور رہنماو ¿ں میں موجودہ سیاسی طرزِ عمل کے حوالے سے اختلافات سامنے آنے لگے ہیں۔انہوں نے بعض ناراض نیشنل کانفرنس اراکین اسمبلی کی مبینہ ملاقاتوں سے متعلق اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پارٹی کے اندر اختلافات اب عملی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔سنیل شرما نے کہا کہ ان کے خیال میں اس سلسلے میں سرگرمیاں گزشتہ روز ہی شروع ہوچکی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پارٹی کے اندر موجودہ صورتحال برقرار رہی اور ناراضگی میں مزید اضافہ ہوا تو نیشنل کانفرنس اور اس کی حکومت دونوں کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔قائد حزب اختلاف نے کابینہ میں توسیع کو حکمران جماعت کے اندرونی اختلافات کے تناظر میں اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزارتی عہدوں سے محروم رہنے والے اراکین اسمبلی کی ناراضگی آنے والے دنوں میں پارٹی کی سیاسی صورتحال پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔










