لیفٹیننٹ گورنر نے 13 ریاستوں اور یوٹیز کے لوگوں کو یوم تاسیس پر مبارک باد دِی

لیفٹیننٹ گورنر نے 13 ریاستوں اور یوٹیز کے لوگوں کو یوم تاسیس پر مبارک باد دِی

کہا، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اَپنے اسلاف کے نظریات کو اَپنائیں ، ان کے دِکھائے ہوئے راستے پر چلیں اور ملک کی تعمیر میں اَپنے کردار کو مزید مؤثر بنائیں

سری نگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے آندھرا پردیش، اِنڈمان و نکوبار جزائر، چندی گڑھ، چھتیس گڑھ، دہلی، ہریانہ، کرناٹک، کیرالہ ، لکشدیپ، مدھیہ پردیش، پڈوچیری، پنجاب اور تمامل ناڈو کے لوگوں کو ان کے یومِ تاسیس پر دلی مُبارک باد پیش کی اور نیک خواہشات کا اِظہار کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے لوک بھون میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ریاستوں اور یوٹیز کے یومِ تاسیس کی تقریبات ہندوستان کی دیرینہ تہذیبی روایت ’’ کثرت میں وحدت ‘‘ کی عکاسی کرتی ہیں۔ اُنہوں نے ملک کے مختلف خطوں کے درمیان ہم آہنگی، یگانگت اور جذباتی یکجہتی کو مضبوط بنانے اور’’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘‘ کے ویژن کو آگے بڑھانے پر وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ اَدا کیا۔اُنہوں نے کہا کہ ہندوستان کی شناخت نہ صرف جغرافیائی حدود میں بلکہ ایک مشترکہ ثقافتی شعور میں بھی پیوست ہے جس نے صدیوں سے مختلف روایات، زبانوں، رسم و رواج، علمی نظاموں اور فنکارانہ اِظہار کو آپس میں جوڑ رکھا ہے ۔اُنہوں نے قدیم ہندوستانی صحیفوں اور مختلف خطوں کی اَدبی روایات کے نظریات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا یہ عظیم ورثہ’ اپنائیت ‘ کے اس احساس کو پروان چڑھاتا ہے جو جغرافیائی حدود سے ماورا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’کیرالہ سے مدھیہ پردیش تک، اِنڈمان و نکوبار سے آندھرا پردیش تک ہمارا اَدبی اور روحانی ورثہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم زِندگی کے ایک ہی دھارے کا اٹوٹ حصہ ہیں اور جغرافیائی فاصلے ہماری جذباتی قربت اور یکجہتی کے جذبے کو کبھی مٹا نہیں سکتے۔‘‘جن ریاستوں اور یوٹیز کا یومِ تاسیس منایا جا رہا ہے،لیفٹیننٹ گورنر نے ان کی ثقافتی خدمات کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہر خطے نے اَپنی منفرد شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے قومی تانے بانے کومزید مالا مال کیا ہے۔ اُنہوں نے کیرالہ کے ادبی و فنی ورثے، اَدب، روحانیت اور تحریک آزادی میں آندھرا پردیش کے کردار، کرناٹک کی صوفی شعرأکی روایت، پنجاب کی گہری روحانی میراث اورہریانہ کی عقیدت پر مبنی اَدب میں خدمات کا بھی ذِکر کیا ۔ اُنہوں نے ہندوستان کے ثقافتی تنوع کو اُجاگر کرنے میں انڈمان اور نکوبار جزائر کی اہمیت، جدید شہری منصوبہ بندی کی علامت کے طور پر چنڈی گڑھ کے مقام اور ملک بھر کی ثقافتوں کے ایک متحرک سنگم کے طور پر دہلی کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔اُنہوں نے کہا،’’ہندوستانی روایات اس بات کا ثبوت ہیں کہ کس طرح کثرت میں وحدت ہم آہنگی کے ساتھ قائم رہ سکتے ہیں۔ ہمارے ثقافتی معمولات ،مذہبی روایات اور ادبی ورثہ اس نظریے کو تقویت دیتے ہیں کہ مختلف خطوں کے لوگ مشترکہ اقدار اور اِجتماعی قومی شعور کے ذریعے آپس میں جُڑے رہتے ہیں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یومِ تاسیس کی تقریبات ایک دوسرے کے ورثے کو سمجھنے، باہمی احترام کو مضبوط کرنے اور عوام کے درمیان گہرے روابط کو استوار کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ اُنہوں نے شہریوں بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ قوم کے اسلاف کے نظریات سے تحریک لیں اور قومی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔اُنہوں نے کہا، ’’یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اَپنے اسلاف کے نظریات کو اَپنائیں، اُن کے دِکھائے ہوئے راستے پر چلیں اور ملک کی تعمیر میں اپنے کردار کو مزید مؤثر بنائیں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے ’وِکست بھارت‘ کے ہدف پر زور دیتے ہوئے تمام شہریوں پر زور دیا کہ وہ ایک ایسے مستقبل کی تعمیرکے لئے کام کریں ۔