سال 1984 کے سکھ مخالف فسادات ملک کی تاریخ کا ایک انتہائی المناک واقعہ

سال 1984 کے سکھ مخالف فسادات ملک کی تاریخ کا ایک انتہائی المناک واقعہ

اس سانحے کے متاثرین کے ساتھ انصاف اور ان کی قربانیوں کو یاد رکھنا قومی ذمہ داری / امیت شاہ

سرینگر / این این بی // کانگریس رہنما راہل گاندھی کی جانب سے یکم نومبر کو نئی دہلی میں منعقد کی جانے والی ریلی پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ سال 1984 کے سکھ مخالف فسادات کی برسی کے موقع پر اس طرح کی سیاسی ریلی کا انعقاد ان متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے، جنہوں نے اس المناک سانحے میں اپنے عزیز و اقارب اور گھر بار کھوئے تھے۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق چندی گڑھ میں 258 کروڑ روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کے بعد ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کانگریس کو 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے معاملے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یکم نومبر 1984 کو دہلی میں ہزاروں سکھوں کو بے رحمی سے قتل کیا گیا تھا اور اس دن کو ملک کی تاریخ کے ایک سیاہ باب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔شاہ نے کہا کہ جس دن سکھ برادری کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد ہوا اور ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، اسی دن دہلی میں ریلی منعقد کرنا متاثرین کے ساتھ ایک طرح کی بے حسی کا مظاہرہ ہے۔ انہوں نے کانگریس اور اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک کی جانب سے رام لیلا میدان میں منعقدہ ‘چلو دلی’ احتجاج پر بھی سوالات اٹھائے۔وزیر داخلہ نے 1984 کے فسادات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران ہزاروں سکھوں کو زندہ جلا دیا گیا، متعدد خاندانوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا، کئی بچے یتیم ہوگئے، خواتین بیوہ ہوئیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کے مکانات نذر آتش کیے گئے۔انہوں نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے اس وقت دیے گئے بیان کا حوالہ بھی دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جب کوئی بڑا درخت گرتا ہے تو زمین ہلتی ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ یہ بیان وہ آج تک نہیں بھلا سکے اور ان کے مطابق ہزاروں افراد کے قتل کے بعد اس طرح کا بیان دینا انتہائی افسوسناک تھا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کے رہنماو ¿ں کو 1984 کے فسادات کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کا جواب دینا چاہیے۔ ان کے مطابق ہندوستان نے اس نوعیت کے فسادات پہلے کبھی نہیں دیکھے اور نہ ہی مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ ہونے چاہئیں۔شاہ نے کہا کہ 2014 میں نریندر مودی کی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متعلق مقدمات دوبارہ کھولے گئے اور تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا عمل شروع کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فسادات میں ہلاک ہونے والے ہر شخص کے قریبی اہل خانہ کو پانچ لاکھ روپے معاوضہ فراہم کیا گیا، جبکہ کانگریس کے بعض اہم رہنماو ¿ں کو بھی ان مقدمات کے سلسلے میں جیل جانا پڑا۔مرکزی وزیر داخلہ نے اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج پر بھی تنقید کی۔ واضح رہے کہ انڈیا بلاک نے نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں ‘چلو دلی’ احتجاج کا اہتمام کیا تھا، جس کے ذریعے چیف الیکشن کمشنر پر انتخابی بے ضابطگیوں اور ووٹوں کے مبینہ اخراج کے الزامات عائد کیے گئے ۔ امت شاہ نے راہل گاندھی کے سیاسی رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ وزیر اعظم بننے کے خواہشمند ہیں تو انہیں ساری زندگی فرضی پارلیمنٹ میں ہی رہنا چاہیے، کیونکہ ان کے بقول ان کی باری کبھی نہیں آنے والی۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ جھوٹ بولنے، انتشار پھیلانے اور پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی سیاست کر رہی ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات ملک کی تاریخ کا ایک انتہائی المناک واقعہ ہیں اور اس سانحے کے متاثرین کے ساتھ انصاف اور ان کی قربانیوں کو یاد رکھنا قومی ذمہ داری ہے۔