studying

نگین پورہ کنڈ کے گورنمنٹ مڈل سکول میں 115بچے زیر تعلیم

سکولی عمارت محض 3کمروں پر مشتمل ایک دفتری کام کیلئے صرف ، دو کمروں میں بچے پڑھائے جاتے ہیں

سرینگر//نگین پورہ کنڈ کولگام میں گورنمنٹ مڈل سکول میں زیر تعلیم 150بچے صرف 2کمروں میں پڑھائے جارہے ہیں جہاں پر نہ سوشل دوری کا کوئی پاس و لحاظ رہتا ہے اورناہی طلبہ ٹھیک طرح سے پڑھائی کرپارہے ہیں۔ اس صورتحال پر مقامی لوگوںنے متعلقہ محکمہ کے خلاف شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دور دراز علاقوں میں قائم سکولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے دور دراز علاقوں میں قائم سرکاری سکول سرکار اور متعلقہ محکمہ کی نظروں سے اْجھل ہیں جہاں پر بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق تو ہے لیکن انہیں سہولیات مئیسر نہیں ہے جس کی وجہ سے دور درازعلاقوں کے بچے معیاری تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔ جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں نگین پورہ گا?ں میں 1957 میں پرائمری سکول قائم کیاگیا جس کو اپ گریڈ کرکے پھر مڈل سکول بنایا گیا لیکن پرائمری سکول کیلئے جو اْس وقت عمارت تھی اسی عمارت کے تین کمروں میں مڈل سکول کو بھی چلایا جارہا ہے۔ نگین پورہ کنڈ چونکہ ایک وسیع آبادی پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے سکول میں بچوں کا رول بھی کافی ہے۔ سکول میں 115سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں اگرچہ سکول میں عملہ کی کوئی قلت نہیں ہے لیکن سکولی عمارت صرف تین کمروں پر مشتمل ہے جن میں سے ایک دفتری کام کاج کیلئے ہے جبکہ دیگر دو کمروں میں 8کلاسوں کو پڑھایا جارہا ہے۔ دو کمروں می 110بچے جب ایک ساتھ جمع کردئے جائیں گے تو کلاس روم میں پڑھنے اور پڑھانے کا عمل متاثر ہوجاتا ہے۔ سکول میں تعینات اساتذہ کا کہنا ہے کہ سکول میں بچوں کو پڑھانے کا کام بہت مشکل بن جاتا ہے کیوں کہ ایک ہی کمرے میں تین چار کلاسوں کے بچوں کو رکھ کر بچوں کو پڑھانا ناممکن ہے۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق انہوں نے کہاجب موسم بہتر ہوتا ہے تو ہم بچوں کو سکول صحن میں پڑھاتے ہیں جو کلاسوں کے بنسبت بہتر ہوتا ہے لیکن جب موسم خراب ہوتا ہے تو ہمارے سکول کے کلاسوں میں اس قدر شور و غل پیدا ہوتا ہے کہ ہم مجبور ہوکر کچھ کلاسوں کو چھٹی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکول کیلئے مزید کمروں کے تعمیر یا دوسری عمارت کے حوالے سے کئی بار تحریری طور پر زیڈ ای او سے مطالبہ کیا گیا تاہم محکمہ کی جانب سے اس طرف کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے۔ اس دوران مقامی لوگوںنے بھی کہا ہے کہ سرکار اور محکمہ ایجوکیشن کی جانب سے سکول کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ا نہوںنے کہا کہ اس سکول کو سرکار اور محکمہ نے نظر انداز کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ میں آبادی مزدو طبقہ سے وابستہ ہے جو بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخل نہیں کرسکتے لیکن سرکاری سکولوں میں بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات دستیاب نہ ہونے سے ان کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔