نوٹسوں کی تشہیر قواعد ، روایات اور پارلیمانی طریقۂ کار کے خلاف۔ سپیکر قانون ساز اسمبلی

نوٹسوں کی تشہیر قواعد ، روایات اور پارلیمانی طریقۂ کار کے خلاف۔ سپیکر قانون ساز اسمبلی

جموں//سپیکر قانون ساز اسمبلی عبدالرحیم راتھر نے کچھ اراکین کی جانب سے حالیہ نوٹسوں کی تشہیر کے ردِّعمل میں آج کہا کہ ایوان کے قواعد و ضوابط اور روایات کے مطابق کوئی بھی نوٹس کسی رُکن یا کسی اور شخص کی طرف سے اُس وقت تک تشہیر نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اسے سپیکر کی جانب سے منظور نہ کیا جائے۔اُنہوں نے اِس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا، ’’جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے قواعد و ضوابط اور طرزِ عمل کے قاعدہ 368 کے مطابق کسی بھی نوٹس کو اُس وقت تک تشہیر نہیں دی جا سکتی جب تک کہ اُسے سپیکر نے منظور نہ کیا ہو اور اراکین میں تقسیم نہ کیا گیا ہو۔ اِسی طرح کسی سوال کے نوٹس کو اُس وقت تک تشہیر نہیں دی جا سکتی جب تک کہ اس سوال کا ایوان میں جواب نہ دیا جائے۔‘‘سپیکر موصوف نے مزید کہا، ’’لوک سبھا کے قواعد و ضوابط اور طرز عمل کے قاعدہ 334۔اے کے مطابق بھی کسی نوٹس کو اُس وقت تک تشہیر نہیں دی جا سکتی جب تک کہ اُسے سپیکر کی منظوری حاصل نہ ہو اور اراکین میں تقسیم نہ کیا جائے۔ اِسی طرح کسی سوال کے نوٹس کو اُس وقت تک تشہیر نہیں دی جا سکتی جب تک کہ اس کا جواب ایوان میں نہ دیا جائے۔‘‘سپیکر قانون ساز اسمبلی نے پارلیمانی طریقہ کار اور روایات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا،’’پارلیمانی طرز ِعمل اور طریقہ کار پر معروف ماہرین شری ایم۔ این۔کول اور شری ایس۔ ایل۔ شکد r کی کتاب میں یہ درج ہے کہ پارلیمانی طریقہ کار، روایات اور اصولوں کے مطابق، سوالات، اِلتوأ کی تحریکوں، قراردادوں، سوالات کے جوابات اور ایوان کے دیگر امور سے متعلق نوٹسوں کی قبل از وقت تشہیر کرنا غیر مناسب ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے توسپیکر اِس عمل پر اَپنی ناپسندیدگی کا اِظہار کر سکتے ہیں اور ذمہ دار شخص کے خلاف کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔‘‘اُنہوں نے پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی کے بیانات پر ردِّعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بیان پارلیمانی قواعد کے خلاف ہے۔سپیکر موصوف نے اس طرح کی بے ضابطگیوں اور کنونشنوں کی خلاف ورزیوں کی کچھ مثالوں پر بھی روشنی ڈالی۔ اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سوالات، جوابات، التوأکی تحریکوں یا قراردادوں کو اس وقت تک شائع کرنا نامناسب اور پارلیمانی روایات کے خلاف ہے جب تک کہ وہ باقاعدہ طور پر ایوان میں پیش نہ کئے جائیں یا سپیکر کی منظوری حاصل نہ ہو۔سپیکرعبدالرحیم راتھر نے مزید کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ اراکین نے ایسا کیا ہے اور میں نے اپنی ناراضگی کا اِظہار کیا ہے۔ لیکن اگر وہ اِس پر اصرار کرتے ہیں تو مجھے اُن کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کرنی ہوگی۔سپیکر نے بجٹ سیشن کے حوالے سے کہا کہ یہ 3؍ مارچ سے 25 ؍مارچ تک جاری رہے گا۔ اِس کے بعد تعطیلات کی وجہ سے وقفہ ہوگا اور سیشن دوبارہ 7 ؍اپریل سے 11 ؍اپریل تک منعقد ہوگا۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ بجٹ سیشن سے قبل آل پارٹی میٹنگ منعقد کی جائے گی۔