بی ایس این ایل کی چاندی ہی چاندی،7روز میں20ہزار صارفین منتقل،سیل میں10فیصد اضافہ
سرینگر//نجی مواصلاتی کمپنیوں کی جانب سے نرخوں میں اضافے کے نتیجے میں جموں کشمیر میں سرکاری مواصلاتی ادارے بی ایس این ایل(بھارت سنچار نگم لمیٹیڈ) کی چاندی ہی چاندی ہوگئی ہے اور صارفین بی ایس این ایل کا رخ کر رہے ہیں۔ بھارت بھر میں مواصلاتی کمپنیوں نے3جولائی سے اپنے نرخوں میں10سے27فیصد اضافے کی وجہ سے صارفین نے سرکاری مواصلاتی ادرے کی جانب رخ کرنا شروع کردیا ہے۔ سرینگر میں بی ایس این ایل کے دفتر کے علاوہ دیگر اضلاع میں بھی سم کارڈ فروخت کرنے والے تسلیم شدہ دکانداروں کی سیل میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے،جس سے بی ایس این ایل کی جولی میں بغیر محنت ہی صارفین جمع ہو رہے ہیں۔ صارفین نہ صرف نئے بی ایس ایل سم کارڑ حاصل کرنیلئے قطاروں میں انتظار کر رہے ہیں بلکہ نجی کمپنیوں کے سم کارڈوں کو بھی بی ایس این ایل میں موبائل نیٹ ورک پورت بلٹی(ایم این پی) کے زریعے منتقل کر رہے ہیں۔ نجی کمپنیوں نے اگر چہ اپنے نرخوں میں اضافہ کیا ہے،تاہم بی ایس این ایل نے اپنے نرخ وہیں رکھیے ہیں جو ان کے 3جولائی سے قبل تھے۔ فیاض احمد نامی سم کارڈ فروخت کرنے والے ایک دکاندار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گزشتہ5دنوں سے بی ایس این ایل سیل میں کافی اضافہ ہوا،اور دن بھر وہ صارفین کو’ بی ایس این ایل کمپنی‘ کے سم کارڑ فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا’’ پہلے بی ایس این ایل سم کارڈ کو کوئی بھی پوچھتا نہیں تھا،تاہم گزشتہ5دنوں سے کافی سم کارر فروخت کیں‘‘۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف5روز میں ہی دیگر مواصلاتی کمپنیوں سے15ہزار صارفین نے اپنے سم کارڈوں کو منتقل کیا،اور یہ سلسلہ اب بھی تیز رفتاری سے جاری ہے۔ ٹیلی کام ٹریڈرس ایسو سی ایشن کے صدر اور کے ٹی ایم ایف کے سابق جنرل سیکریٹری بشیر احمد کنگپوش نے بھی کہا کہ گزشتہ5روز سے بی ایس ایل سموں کی فروخت کا گراف کافی بڑ چکا ہے۔انہوں نے بتیا کہ وادی کے جنوب و شمال سے سم کارڈ فروخت کرنے والوں نے جو اعداد شمار دئیے ہیں وہ اطمنان بخش ہے،کیونکہ نجی کمپنیوں کی جانب سے نرخوں میں اضافے کے بعد بی ایس این ایل کی جانب صارفین نے رخ کرنا شروع کردیا ہے۔ سرائے بالا کے ایک صارف جا?ید احمد نے بتایا کہ یہ فطرتی عمل ہے کہ جو کمپنی کم نرخوں پر مواصلاتی سہولیات فراہم کرے گی صارفین اسی جانب رخ کریں گے،تاہم بی ایس این ایل کو اپنی سروس بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ بی ایس این ایل کے ترجمان معصود حسین بالا نے بھی اس بات پر اطمنان کا اظہار کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے بی ایس این کی سیل میں اضافہ ہوا۔انہوں نے بتایا’’ قریب15ہزار صارفین جو دیگر کمپنیوں کے سم کارڈ رکھتے تھے،نے’ موبائل نیٹ ورک مو بالٹی ‘کا استفادہ کرکے بی ایس این میں اپنے سم کارڈوں کو منتقل کرایا‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ قریب10فیصد سیل میں بھی اضافہ ہوا،اور وہ امید کرتے ہیں کہ اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ بالا نے بتایا کہ بی ایس این ایل کو اپنے نرخوں میں اضافہ کرنے کا خیال نہیں ہے،جبکہ سہولیات کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے۔ معصود بالا نے بتایا کہ مرکزسی حکومت کو بھی ایک تجویز پیس کی گئی ہے،اور اگر اس کو منطوری ملتی ہے تو صارفین کو مزید بہتر سہولیات دستیاب رہیں گی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ بی ایس این ایل کوگزشتہ4برسوں کے دوران زائد از2لاکھ بی ایس این ایل موبائل صارفین نے کمپنی کو الوداع کیا۔سرکاری اعدادشمارکے مطابق سال2020میں جموں کشمیر میں بی ایس این ایل موبائل صارفین کی تعداد7 لاکھ34ہزار158تھی،جبکہ سال2021میں یہ گھٹ کر6لاکھ90ہزار172 اور سال2022میں6لاکھ54ہزار835 تک سمت گئی۔سال2023کے آخر میں صارفین کی تعداد مزید گھٹ کر5لاکھ71ہزار146رہ گئی اور حیران کن طور پر31جنوری2024تک صرف ایک ماہ میں مزید63ہزار صارفین نے بی ایس این ایل کو الوداع کیا اور صارفین کی تعداد5لاکھ8ہزار380رہ گئی۔










