نالہ لدر کے ارد گرد باندھوں کونقصان پہنچایاجارہا ہے

مستقبل میں درجنوں دیہات کوسیلابی صورتحال کاخطرہ

سرینگر//سال 1991میں آئے تباہ کن سیلاب کے بعد نالہ لدر کے دونوں کناروں پر اْس وقت کی سرکار کی جانب سے باندھ بنائے گئے تھے تاکہ آس پاس کی بستیوں کو سیلاب سے محفوظ رکھا جائے تاہم نالہ لدر سے معدنیات نکالنے کے دوران ان باندھوں کو بھی توڑکر ان سے پتھر اور دیگر میٹریل نکالاجارہا ہے جس کی وجہ سے متعد دیہات کو خطرہ لاحق ہوا ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق سال 1991میں وادی کشمیر نے ایک بڑے تباہ کن سیلاب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس کی وجہ سے سینکڑوں دیہات اور شہری علاقے اس سیلاب سے متاثر ہوئے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں رہائشی مکانات کونقصان پہنچا تھا۔ اس ضمن میں سرکار نے کئی ندی نالوں میںنئے سرے سے باندھ بنانے کا کام شروع کیا تھا۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق نالہ لدر کے مطابق نالہ لدرکے ارد گرد متعد ددیہات جن میں جائیبل ، آمڈ زو، گنیش پورہ ، بگھونی ، دلسر وغیرہ شامل ہے کو بھی باندھ سے محضوظ بنایاگیا تاہم نالہ لدرسے بولڈر، باجری اور ریت نکالنے کے دوران جے سی بی اور ٹریکٹروں کو استعمال میں لاتے ہوئے ان باندھوں کو بھی توڑ اجارہا ہے اور اس کے میٹریل کو اپنے ساتھ لے جایا جارہاہے جس کی وجہ سے ان دیہات کو خطرہ لاحق ہوا ہے۔ اس ضمن میں مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ اگر ان باندھوں کو اسی طرح نقصان پہنچانے کاکام جاری رہا تو متعد دیہات سیلابی ریلی میں بہہ جائیں گے جس کے نتیجے میں مال و جائیداد اور انسانی جانوں کو بھی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔ لوگوں نے اس ضمن میں ضلع انتظامیہ اننت ناگ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیکر ان باندھوں کونقصان سے بچائیں۔