وادی کشمیر میں سال ہاسال سے زیر تعمیر عمارتی ڈھانچے تشنہ تکمیل ،سرکار کی توجہ پر زور
سرینگر //وادی کشمیر میں سال ہاسال سے زیر تعمیر عمارتی ڈھانچے مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لیتے ہیں جبکہ ضرورت ہونے کے باوجود بھی نئی تعمیرات کے لئے لوگ سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کیونکہ تعمیراتی میٹرئیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ بنیادی وجہ ہے اور اس پر انتظامیہ کی خاموشی تشویشناک ہے ۔اس سلسلے میں وادی کشمیر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مقامی لوگوں نے کشمیر پریس سروس کو بتایاکہ انہوں نے کئی سال قبل تعمیراتی ڈھانچے کھڑا کرنے کی سعی کی ہے اور زیر تعمیر ہیں لیکن سیمنٹ ،لوہے ،لکڑی ،المونیم وغیر ہ جیسے تعمیراتی میٹرئیل کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں ۔جس کے نتیجے میں ان کا تعمیراتی کام مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دو تین سال قبل کی نسبت سیمنٹ ،اینٹوں ،پتھروں ،لوہے ،لکڑی اورریت وباجری کی قیمتوں میں 60فیصدی سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے جبکہ کریشر والوں کی من مانی قیمتوںکی وجہ سے تعمیراتی ڈھانچے کھڑا کرنے والوں کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے رہائشی مکان یا اور کوئی تعمیراتی ڈھانچہ کھڑا کرنے کی شروعات کی یا کوئی ارادہ رکھتا ہے وہ بالکل مایوس ہوچکے ہیں کیونکہ وہ لوگ تعمیراتی ڈھانچے کی بنیاد رکھتے ہی مالی سکت کھوجاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مکان یا دوسرے کسی عمارت کی بنیاد مضبوط بنانے کیلئے باجری کی ضرورت ہوتی ہے اور آجکل باجری اور ریت ہی زیادہ تر کام میں لائی جاتی ہے لیکن ان کی قیمتیں ایسی رکھی گئی ہیں جو ناانصافی پر مبنی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دریا ،ندی نالے قومی اثاثے ہیں لیکن ان پر کئی خود غرض افراد نے افسران کی پشت پناہی سے اپنی جاگیر بنا کران پر اپنا بھر پور قبضہ جمایا ہے جو کہ سراسر ناجائز اور غیر قانونی عمل ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے گورنرانتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان علاقوں میں کریشر والوں کی لگام کسنے اور تعمیراتی میٹرئیل کی قیمتوں میں اعتدال لانے میں اپنا رول ادا کریں ۔تاکہ لوگ ماضی کی تعمیراتی کاموں کی طرف راغب ہوجائیں گے اوراس سے کاروبار سرگرمیاں بھی تیز ہوسکتی ہیں










