انتظامیہ کی جانب سے حفاظت سمیت تمام انتظامات کو بہتر طریقے سے انجام دیا گیا تھا :زائرین
سری نگر//وسطی کشمیر کے ضلع گاندر بل میں میلہ کھیر بھوانی کے اس تہوارمذہبی جوش و خروس اور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا ہے ۔ اس دوران میلے میں یہاں ہزاروں کی تعداد نے کشمیر پنڈتوں نے ملک کے مختلف حصوں سے آکر اس اہم تہوار میں حصہ لیا۔ادھر پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بتایا کہ یہ تہوار یہاں کے بھائی چارے کی خاص مثال ہے ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق تہوار کی سب سے خاص بات یہ بھی ہے کہ اس تہوار کے دوران کشمیر کے آپسی بھائے چارے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور کشمیریت کی زندہ مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں: وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کے تولہ مولہ علاقہ میں واقع مشہور ماتا کھیر بھوانی مندر میں سالانہ ‘میلہ کھیر بھوانی’ پیر کے روز انتہائی عقیدت و احترام اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس میلے کی کشش اور عقیدت ایک بار پھر ہزاروں کشمیری پنڈتوں کو وادی میں کھینچ لائی۔تولہ مولہ میں واقع کھیربھوانی کشمیری پنڈتوں کی ایک مقدس جگہ ہے جہاں پر رگنیا دیوی جو ان کی ایک مقدس دیوی ہیں، کا مندر ہے۔ کشمیری پنڈتوں کے مطابق رگنیا دیوی صرف کشمیر میں پوجی جاتی ہیں۔ اس مندر میں کشمیری پنڈت ‘میلہ کھیر بھوانی’ کے نام سے مشہور تہوار ہر سال مناتے ہیں۔ میلہ کھیر بھوانی کو کشمیری پنڈتوں کا سب سے بڑا اور اہم تہوار مانا جاتا ہے۔اس تہوار کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ اب گزشتہ دو دہائیوں سے اْن کشمیری پنڈتوں کو اپنے مقامی کشمیری مسلمان اور پنڈت بھائیوں سے ملنے کا موقع بھی فراہم کررہا ہے، جو انیس سو نوے کی دہائی میں نامساعد حالات کی وجہ سے وادی میں اپنا گھر بارچھوڑ کر ہجرت کرگئے تھے۔اس تہوار کے موقع پر آج ایک بار پھر جب کشمیری مسلمانوں نے اپنے پنڈت بھائیوں اور پنڈتوں نے اپنی برادری کے دوسرے افراد کے ساتھ برسوں بعد ملاقات کی، تو یہاں انتہائی رقعت آمیز مناظردیکھنے کو ملے اور اکثر و بیشتر کو اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔انتظامیہ نے اس بار میلے میں شرکت کے خواہشمند عقیدتمندوں کے لئے سرمائی دارالحکومت جموں اور قومی راجدھانی نئی دہلی سے تولہ مولہ تک ٹرانسپورٹ کے مناسب انتظامات کیے تھے۔ اس کے علاوہ مندر کے اندر اور باہر بھی عقیدتمندوں کے لئے معقول انتظامات کیے گئے تھے۔ چیتنا رینہ نامی ایک مہاجر پنڈت خاتون نے بتایا ‘میں پہلی بار کھیر بھوانی کی درشن پر آئی ہوں۔ اتنے سارے لوگ دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔ میں دعا کرتی ہوں کہ بھگوان سبھی کی دعائیں پوری کریں’۔سریندر کول نامی ایک کشمیری پنڈت نے کہا کہ یہ میلہ تین دہائی قبل ایک دوسرے سے جدا ہونے والے پنڈتوں کو ایک دوسرے سے ملاقات کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا ‘کشمیری پنڈت سماج ہزاروں سالوں سے رگنیا دیوی کی پوجا کرتا آیا ہے۔ آج کشمیر اور ملک کے دوسرے حصوں میں رہنے والے ہزاروں پنڈت یہاں اکھٹے ہوئے ہیں۔ یہ میلہ ہمیں ایک دوسرے سے ملنے کا موقع فراہم کرتا ہے’۔ایک اور مہاجر پنڈت خاتون نے کہا: ‘میں گذشتہ چار برسوں سے مسلسل یہاں آرہی ہوں۔ یہاں کے لوگ انتہائی ملنسار ہیں۔ میں یہاں اس میلے پر آئند بھی آتی رہوں گی۔ ہر ایک سماج میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں اور برے لوگ بھی ہوتے ہیں’۔میلہ کھیر بھوانی کے منتظمین کے مطابق ہزاروں کشمیری پنڈتوں نے اس پوتر مندر میں رات بھر جاری رہنے والی پوجاپاٹ اور ہون کی خصوصی محفلوں میں شرکت کی۔ میلہ کھیر بھوانی کے اس تہوار کی سب سے خاص بات یہ بھی ہے کہ اس تہوار کے دوران کشمیر کے آپسی بھائے چارے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور کشمیریت کی زندہ مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ تہوار کے دوران نہ صرف کشمیری مسلمان اپنے پنڈت بھائیوں کو ضرورت کی ہر ایک چیز مہیا کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنے گھروں میں دعوت پر بلاتے ہیں۔










