Mutton Ada Anantnag where even today, Tanga Swari is available and people enjoy it

مٹن اڈہ اننت ناگ :جہاں آج بھی تانگہ سواری دستیاب ہے‘اور لوگ اس سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں

’ہم دس روپے فی سواری سے کرایہ لیتے ہیں‘یہ اچھا کام ہے اور ہم کروڑوں تو نہیں لیکن ہم اتنا کماتے ہیں کہ اپنا عیال پال سکیں‘

سرینگر//وادی کشمیر کی قدیم تاریخ کا حصہ تانگہ آج بھی جنوبی کشمیر کے مٹن علاقوں کی سڑکوں پر دوڑتا ہے اور تانگہ بانوں کیلئے یہ پیشہ آج بھی روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔دنیا میں لوگوں کی آمد و رفت کیلئے ٹرانسپورٹ کے مختلف النوع تیز ترین اور آرام دہ وسائل کی آمد کے ساتھ ہی تانگہ سواری‘جس کا شمار قدیم ترین ذرائع ٹرانسپورٹ میں ہوتا ہے‘ کا رواج و چلن بھی معدوم ہوتا جا رہا ہے۔لوگ وقت بچانے اور آرام سے سفر کرنے کیلئے جدید طرز کے ٹرانسپورٹ کے استعمال کو ہی ترجیح دیتے ہیں جس کے اپنے فائد بھی ہیں اور نقصانات بھی ہیں۔تاہم سڑکوں پر مختلف قسم کی گاڑیوں کی بھر مار کے باوصف بھی وادی کشمیر کے بعض علاقوں میں تانگے یا گھوڑا گاڑیاں نظر آ رہی ہیں جو جہاں کئی لوگوں کیلئے روزی روٹی کا وسیلہ ہیں وہیں بعض لوگوں کے شوق کو پورا کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کا مٹن اڈہ اننت ناگ ہے جہاں مٹن چوک سے انچی ڈورہ تک کا سفر طے کرنے کیلئے تانگہ سروس چل رہی ہے۔گلزار احمد وگے نامی ایک تانگہ بان، جس کا تانگہ بالی ووڈ فلم بجرنگی بھائی جان کی شوٹنگ کے دوران استعمال کیا گیا تھا، نے وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ وہ گذشتہ لگ بھگ 27 برسوں سے تانگہ چلا رہے ہیں۔وگے نے کہاکہ میرے والد بھی یہی کام کرتے تھے میں بھی اسی کام سے اچھی طرح سے اپنے عیال کو پال رہا ہوں‘‘۔ان کا کہنا تھاکہ گرچہ لوگوں کے پاس سفر کرنے کیلئے ٹرانسپورٹ کے مختلف ذرائع ہیں لیکن پھر بھی کئی لوگ تانگوں میں ہی سفر کرنا پسند کرتے ہیں بلکہ تانگے میں سفر کرنا کچھ لوگوں کا شوق ہے ‘‘۔تانگہ بان نے کہا کہ مٹن چوک سے انچی ڈورہ تک تانگہ سروس چل رہی ہے۔انہوں نے کہا’’اس مسافت کیلئے ہم دس روپے فی سواری سے کرایہ لیتے ہیں‘یہ اچھا کام ہے اور ہم کروڑوں تو نہیں لیکن ہم اتنا کماتے ہیں کہ اپنا عیال پال سکیں‘‘۔تانگہ سواری ایک محفوظ سواری ہے کیونکہ اس کو حادثہ ہونے کے بہت کم امکانات ہوتے ہیں اور آج نئے طرز کے تانگے بھی ہیں جو سواریوں کے لئے بھی آرام دہ ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ایک گھوڑا گاڑی یا تانگہ کم سے کم دو لاکھ میں تیار ہوتی ہے۔تانگہ بان نے کہا ’’ میرا تانگہ پہلگام میں بالی ووڈ فلم بجرنگی بھائی جان کی شوٹنگ کے دوران استعمال کیا گیا‘‘۔ان کا کہنا تھا’’اس فلم کی شوٹنگ کے دوران میں وہاں پانچ دن رہا اور اچھا کام کیا‘‘۔تانگہ بان نے کہا کہ حکومت نے ہمیں ایک بار تانگوں کے بدلے گاڑیاں خریدنے کے لئے بینک قرضہ دینے کی بات کی تھی لیکن ہم نے بغیر سود کے قرضہ کا مطالبہ کیا جو انہوں نے نہیں مانا تو ہم اسی پیشے سے جڑے رہے۔ایک بزرگ نے مجھے نصیحت کی کہ بیٹا یہ پیشہ ذریعہ روزی روٹی ہی نہیں بلکہ کشمیر کی ثقافت کا ایک حصہ بھی ہے اس کو کبھی چھوڑنا نہیں‘‘۔ان کا ماننا ہے کہ حکومت چاہے تو تانگہ سواری میں ہی بہتری لا سکتی ہے اور اس کو مسافروں کے تقاضوں کے مطابق بنایا جا سکتا ہے جس سے نہ صرف یہ پیشہ زندہ رہے گا بلکہ اس سے وابستہ لوگوں کی آمدنی میں بھی مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔غلام محمد خان نامی ایک بزرگ نے کہا کہ تانگہ سواری کو شاہی سواری کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک زمانے میں یہاں مہاراجوں کی سواری تھی اور لوگوں کی آمد و رفت کا ایک موثر ذریعہ بھی تھا۔غلام محمد کا کہنا تھا کہ موٹر گاڑیوں کی آمد کے ساتھ اس کا رواج روبہ زول ہے لیکن لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ تانگہ میں سفر کیا کریں تاکہ ایک تو یہ ثقافت زندہ رہے دوسرا اس کے ساتھ جڑے لوگوں کی روزی روٹی کی سبیل بھی ہوسکے۔