جموں//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم ، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتونے کہا کہ منشیات کا اِستعمال ایک اِنتہائی حساس معاملہ ہے اورجموں وکشمیر میں اِس سماجی برائی کے خاتمے کے لئے مل کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔وزیر موصوفہ قانون ساز اسمبلی میں مُبارک گُل کی طرف سے اُٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دے رہی تھی۔اُنہوں نے علاج اور باز آباد کاری کی سہولیات کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ کشمیر میں 11 ایڈکشن ٹریٹمنٹ سہولیات (اے ٹی ایف) فعال ہیں اور صوبہ جموں میں 9 اے ٹی ایف کام کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ تمام 20 اَضلاع میں او پی ڈی خدمات فعال ہیں جبکہ آئی پی ڈی خدمات تمام 9 جی ایم سیز میں دستیاب ہیںجو دونوں مرد اور خواتین مریضوں کی نگہداشت کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ ماہر نفسیات جموںوکشمیر یوٹی کے تمام جی ایم سیز میں دستیاب ہیں۔وزیر موصوفہ نے حکومت کی ٹریننگ اور مانیٹرنگ کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 25 میڈیکل اَفسران (جموں سے 12 اور کشمیر سے 13) کو بنگلور کے نیشنل اِنسٹی چیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز ( این آئی ایم ایچ اے این ایس) کے ذریعے تربیت دی گئی اورانہیں اپنے اپنے اضلاع میں تعینات کیا گیا تاکہ ٹریٹمنٹ سینٹروں میں علاج کی سہولیات کو مضبوط کیا جا سکے۔ اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ رجحانات کی نگرانی اور مداخلتوں کے اثرات کی پیمائش کے لئے بروقت رپورٹنگ کے لئے گوگل شیٹس کا اِستعمال کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر ڈیٹا اکٹھا کرنے سے مانیٹرنگ کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ اُنہوں نے ایوان کو بتایا کہ ستمبر 2022 سے نشا مخت ابھیان کے آغاز کے بعد نئے معاملوں کے اندراج میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے جو متاثرین کا پتہ لگانے اور ان کے انتظام میں کسی حد تک کنٹرول یا بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔وزیر موصوفہ نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ منشیات کی لت سے نجات کی پالیسی کو اَپنانے ، ریاستی سطح کی پالیسی کی عمل آوری کی نگرانی قیام، صوبائی سطح پر ڈرگ ڈِی ایڈکشن اور نگرانی کے علاوہ جموں و کشمیر میں نشہ کی لت اور منشیات کی سمگلنگ سے نمٹنے کے لئے ضلعی سطح کی منشیات کی روکتھام اور نگرانی کمیٹیوں کا قیام جیسے متعدد پالیسی سطح کے اَقدامات اپنائے گئے ہیں۔اُنہوںنے مزید بتایا کہ حکومت نے نشہ کے متاثرین کی سہولیت کے لئے اور علاج کے لئے ٹیلی مانس(ایم اے این اے ایس) کے نام سے ایک خصوصی کال سینٹر قائم کیا ہے۔اُنہوں نے بیداری پروگراموں کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ، این جی اوز، رضاکاروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں باقاعدگی سے آئی ای سی سرگرمیاں، سمینار، ورکشاپوں اور پروگرام منعقد کئے جا رہے ہیں تاکہ نشہ اور منشیات کے اِستعمال کے مضر اثرات کے بارے میں بیداری دی جا سکے۔وزیر صحت نے یہ بھی بتایا کہ محکمہ صحت نے منشیات کے غلط اِستعمال پر نجات پروجیکٹ کے تحت جموں و کشمیر بینک کے ساتھ تعاون کیا ہے جس میں پروجیکٹ نجات کی تجدید کی گئی ہے جوتمباکو اور منشیات کی لت کی روکتھام اور علاج کے لئے وقف ہے جو جموں اور پلوامہ اضلاع کے لئے نومبر 2023 میں کامیابی سے شروع کیا گیا تھا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ نجات کا مقصد اَفراد،کنبوں اور کمیونٹیوں کو تمباکو اور منشیات کے مضراثرات کے ساتھ ساتھ روکتھام، علاج اور مدد کے لئے دستیاب وسائل کے بارے میں بیدار ی پیدا کرنا ہے۔اراکین اسمبلی مُبارک گُل ، یودھویر سیٹھی، اروند گپتا، محمد یوسف تاریگامی اور جسٹس (ریٹائرڈ) حسنین مسعودی نے اس معاملے پر ضمنی سوالات اُٹھائے۔










