mumkin schemee

’ممکن اسکیم‘ کی کچھوئے کی رفتار سے نوجوان مایوس

گزشتہ برس11ہزارکیسوںمیں سے4500 کو ہی ملی منظوری،60فیصد زیر التواء

سرینگر// جموں کشمیر میں نوجوانوں کیلئے مشن یوتھ کے تحت شروع کی گئی پرجوش روزگار اسکیم’ ممکن‘ کے تحت گزشتہ برس سرکار نے صرف40فیصد کے قریب درخواستوں کو ہری جھنڈی دکھائی ہیں،جس کی وجہ سے نوجوانوں کی امنگوں کو پورا کرنے کیلئے یہ اہم قدم ٹھنڈا پڑتا ہواثابت ہو رہا ہے۔اس اسکیم کے تحت، بے روزگار نوجوانوں کو نقل و حمل کے شعبے میں پائیدار روزگار قائم کرنے کیلئے رعایتی بنیادوں پر چھوٹی کمرشل گاڑیاں خریدنے میں سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ سرکاری اعداد شمار کے مطابق گزشتہ برس نومبر تک اس اسکیم کے تحت جموں کشمیر میں10ہزار703درخواستیں موصول ہوئیں ہیں،جن میں صرف4243درخواستوں کو نپٹایا گیا۔’ممکن‘ایک ذریعہ معاش پروگرام ہے جو بنیادی طور پر 18 سے 35 سال کی عمر کے بے روزگار نوجوانوں کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ اسکیم کے ذریعے نوجوانوں کو بنکوں کی شراکت کے ساتھ چھوٹی مال بردارگاڑیاں فراہم کی جا رہی ہیں جس کے ذریعے خریدی جانے والی گاڑی کی آن روڈ قیمت کے لیے قرض کی سہولت 100 فیصد تک ہے۔اس کے علاوہ مشن یوتھ گاڑی کی آن روڈ قیمت کے لیے 80ہزار روپے یا 10 فیصد کی رقم (جو بھی کم ہو) پیشگی رعایت کے طور پر فراہم کرتا ہے اور گاڑیاں تیار کرنے والوں(حکومت کے سکیم شراکت دار) اس پر خصوصی رعایت فراہم کرتے ہیں۔اسکیم کے نفاذ کو مکمل طور پر شفاف اور تیز تر بنانے کے لیے، اس اسکیم کو ڈیجیٹل طور پر چلانے کیلئے JK-e-Services(جے کے ای سروس) پورٹل پر ایک ماڈیول تیار کیا گیا ہے۔جموں و کشمیر انتظامیہ نئے کاروباری اداروں کے قیام یا آمدنی پیدا کرنے کیلئے موجودہ منصوبوں کی توسیع اور جدید کاری کے لیے آسان مالیات کی سہولت بھی فراہم کر رہی ہے۔نظامت معاشیات و شماریات نے اپنی نومبر کی 2023کی ڈی جی جی آئی رپورٹ میں محکمہ روزگار کے اسسٹنٹ ڈائریکٹروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ راجوری میں575درخواستوں میں سے565،جبکہ گاندربل میں447درخواستوں میں364اور سامبا میں402میں سے215 درخواستوں کو نپٹایا گیا تاہم نومبر کے آخر تک10اضلاع میں اس سکیم کی بھیانک صورتحال سامنے آئی ہے،جس سے اس اسکیم کے غبارے سے ہوا نکلتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ شوپیاں میں413درخواستوں میں118،بانڈی پورہ میں496درخواستوں میں166، کپوارہ میں893درخواستوں میں305پلوامہ میں380درخواستوں میں144اور بڈگام میں352درخواستوں میں سے170درخواستوں کو ہی منظوری ملی ہیں اور باقی ابھی زیر التواء ہے۔ محکمہ شماریات کے مطابق ریاسی میں546درخواستوں میں صرف96،رام بن میں830میں سے153پونچھ میں828میں سے190ڈوڈہ میں541میں سے145سرینگر میں442میں سیء244 اور اننت ناگ میں401میں سے364درخواستوں کو نپٹایا گیا۔ اعداد شمار کے مطابق کولگام میں565ایسی ہی ممکن درخواستوں میں سے333کشتواڑ میں434میں سے164،کھٹوعہ میں638میں سے221اور،شوپیاں میں413مین سے118 ادھمپور میں472میں سے158درخواستوں کو نپٹایا گیا۔مشن یوتھ کے ایک افسر نے بتایا کہ ممکن اسکیم جموں کشمیرانتظامیہ کا ایک پرجوش پروگرام ہے جس کا مقصد ایک کثیر الجہتی حکمت عملی کے ذریعے نوجوانوں کو جموں و کشمیر کی سماجی و اقتصادی ترقی میں مثبت طور پر شامل کرنا ہے جس میں تمام ضروری منظم مشاورت بالخصوص ہنر مندی کی ترقی، ذریعہ معاش پیدا کرنے، تعلیم کے شعبے، تفریح اور کھیل شامل ہیں۔