سرینگر //پاکستان اور چین نام ایک مرتبہ پھر سخت پیغام دیتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’دہشت گردی ‘‘کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے والے ممالک اب اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ہندوستان کبھی بھی غیر ضروری طور پر کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا اور نہ ہی اس ملک کی یکجہتی، سالمیت اور خودمختاری کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کرنے والے کسی کو بخشتا ہے۔ جموں کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعد حالات بالکل بدل چکے اور زمین سطح پر کشمیر میں اس وقت سب عیا ں ہے ۔ سی این آئی مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق ایک پرائیویٹ میڈیا ہاؤس کے زیر اہتمام ’’رائزنگ انڈیا کانکلیو‘‘سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’چاہے یہ چین کے ساتھ (فوجی) اسٹینڈ آف ہو یا پاکستان کے ناپاک ارادے، ہماری افواج جب بھی ضرورت پڑی، مناسب جواب دے رہی ہیں۔‘‘راجناتھ سنگھ نے کہا کہ سال 2016 میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھارت کی طرف سے کی گئی سرجیکل اسٹرائیکس سے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی اور دنیا کو ایک مضبوط پیغام دیا کہ بھارت اپنی سرزمین پر اور ضرورت پڑنے پر بیرونی سرزمین پر دہشت گردی کا خاتمہ کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے دہشت گردی جیسے مسائل پر دنیا کی قیادت کی ہے اور اس لعنت کو ختم کرنے کے لئے حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ محفوظ سرحدوں اور خود انحصاری سے لے کر ایک مضبوط معیشت اور تبدیل شدہ عالمی امیج تک، ہندوستان وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مضبوط ترین ممالک میں سے ایک کے طور پر ابھر رہا تھا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تمام شعبوں، خاص طور پر دفاع، گزشتہ چند سالوں میں ایک تبدیلی آمیز تبدیلی کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جس نے ہندوستان کو دنیا کے نقشے پر ایک باوقار مقام تک پہنچایا ہے۔وزیر دفاع نے حکومت کے جرات مندانہ انداز اور غیر متزلزل عزم کو سہرا دیا، جس نے محفوظ سرحدوں اور جنگ کیلئے تیار مسلح افواج کو خود انحصار دفاعی صنعت کی مدد سے یقینی بنایا ہے۔ قومی سلامتی کو حکومت کی اولین ترجیح اور خود انحصاری کو اسے حاصل کرنے کا واحد ذریعہ قرار دیتے ہوئے، انہوں نے زور دے کر کہا کہ دفاع میں ’’آتمنیربھارت’‘‘حاصل کرنے کے لیے انتھک کوششیں کی جا رہی ہیں۔اس سلسلے میں، انہوں نے وزارت دفاع کی طرف سے اٹھائے گئے کچھ اقدامات کی فہرست دی، بشمول مثبت مقامی فہرستوں کا نوٹیفکیشن؛ 2023-24 میں ملکی صنعت کے لیے دفاعی سرمائے کی خریداری کے بجٹ کا ریکارڈ 75 فیصد مختص کرنا اور مقامی کمپنیوں کو بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرنے کی کوشش۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ان فیصلوں کی وجہ سے حاصل ہونے والی کامیابی پر میں پچھلے کچھ سالوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ہم نہ صرف اپنی ضروریات پوری کر رہے ہیں بلکہ دوسرے ممالک کو ہتھیار اور آلات بھی برآمد کر رہے ہیں۔جموں کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے جموں و کشمیر میں حالات معمول پر آ رہے ہیں۔ یہ اس حقیقت میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جموں و کشمیر میں ان کی بھارت جوڑو یاترا کے دوران کانگریس کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا ۔ انہوںنے کہا کہ حالات باکل بدل چکے ہیں اور ملک کے ہرعلاقہ میں ترقی ہو رہی ہے ۔ راج ناتھ نے ہندوستان کی سفارت کاری کو رائزنگ انڈیا کا ایک اور پہلو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال G20اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی صدارت اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر ہندوستان کا قد مسلسل بڑھ رہا ہے۔










