2مہینے میں 40 میڈیکل کالجوں کی منظوری منسوخ، نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) کے طے کردہ معیارات پر عمل نہ کرنے کا الزام
سری نگر//ملک بھر میں نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) کے طے کردہ معیارات پر عمل نہ کرنے کے الزام میں گزشتہ2ماہ میں تقریباً 40 میڈیکل کالجوں کی پہچان یا توثیق منسوخ کر دی گئی ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق سرکاری ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے ایک نیوز رپورٹ میں اسبات کاانکشاف کیاگیاہے کہ ملک بھرمیں150میڈیکل کالجوں پر رجسٹریشن کی منسوخی کی تلوار لٹک رہی ہے ،کیونکہ ان میڈیکل کالجوں کونیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) کے طے کردہ معیارات پر عمل نہ کرنے کامرتکب پایاگیاہے ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تمل ناڈو، گجرات، آسام، پنجاب، آندھرا پردیش، پڈوچیری اور مغربی بنگال میں تقریباً150 مزید میڈیکل کالجوں کو بھی اسی طرح کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سرکاری ذرایع نے بتایا کہ پہچان یا توثیق کھونے والے میڈیکل کالج مقررہ اصولوں پر عمل نہیں کررہے تھے اور کمیشن کے ذریعہ کئے گئے معائنہ کے دوران سی سی ٹی وی کیمروں، آدھار سے منسلک بائیو میٹرک حاضری کے طریقہ کار اور فیکلٹی رولز سے متعلق کئی خامیاں پائی گئیں۔نیشنل میڈیکل کمیشن کے انڈر گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن بورڈ کی طرف سے ایک ماہ سے زائد عرصے تک کئے گئے ایک معائنہ کے دوران یہ خامیاں سامنے آئیں، جس میں انہوں نے سی سی ٹی وی کیمروں، آدھار سے منسلک بائیو میٹرک حاضری کے طریقہ کار میں خامیوں اور فیکلٹی رولز کو دیکھا۔ذرائع نے بتایا کہ کالج ان معیارات پر عمل نہیں کر رہے ہیں جس میں کیمروں کی مناسب تنصیب اور ان کے کام کاج شامل ہے۔ بائیو میٹرک کی سہولت ٹھیک سے کام نہیں کر رہی تھی۔ معائنے کے دوران فیکلٹیز میں کئی آسامیاں بھی خالی پائی گئیں۔ذرائع نے بتایا کہ میڈیکل کالجوں کے پاس اپیل کرنے کا اختیار ہے۔ پہلی اپیل نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) میں 30 دنوں کے اندر کی جا سکتی ہے۔ اگر اپیل مسترد ہو جاتی ہے تو وہ مرکزی وزارت صحت سے رجوع کر سکتے ہیں۔دسمبر میں مرکزی وزیر صحت منسکھ منڈاویہ نے ان میڈیکل کالجوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ دیا تھا جو قواعد پر قائم نہیں رہتے یا مناسب فیکلٹی برقرار نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا تھاکہ ہمیں طلباء وطالبات کو معیاری تعلیم دینی ہے، ہمیں اچھے ڈاکٹر پیدا کرنے ہیں۔ماہرین کاکہناہے کہ 150میڈیکل کالجوں کی رجسٹریشن منسوخ ہونے سے ملک کے لئے ایک بحران کو جنم دے سکتی ہے، جہاں کئی دہائیوں سے میڈیکل کالجوں اور میڈیکل طلباء وطالبات کے لیے سیٹیں ناکافی ہیں۔2014 میں ملک میں 387 میڈیکل کالج تھے۔ 2023 میں، یہ تعداد بڑھ کر 660 ہو گئی ہے۔ ان میں سے22 آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہیں، جو کہ 2014 میں7 سے زیادہ ہیں۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پوسٹ گریجویشن نشستوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ پوسٹ گریجویٹ کی کل 65,335 نشستیں ہیں ، جو کہ 2014 کے مقابلے میں دوگنی ہے۔2014 میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کی 31,185نشستیں تھیں۔ ایم بی بی ایس کی نشستوں کی تعداد ایک لاکھ ایک ہزار43 ہے جو کہ 2014 میں51,348 تھی۔لیکن150 میڈیکل کالجوں کی شناخت ختم کرنے سے میڈیکل کالجوں کی تعداد تقریباً ایک چوتھائی تک کم ہو سکتی ہے،اورساتھ ہی مختص کی جانے والی میڈیکل یا ایم بی بی ایس سیٹوںکی تعدادمیں بھی کمی واقع ہوگی۔










