وقف ترمیمی بل کیلئے مسلم رہنماوں اور قدآور اشخاص سے مشاورت لازمی
سرینگر// معراج محمدیﷺ کا تذکرہ کرنے کا مقصد نہ صرف شان رسول اکرمﷺ کو بیان کرنا ہے بلکہ اس تاریخی اور غیر معمولی واقعہ سے متعدد سائنسی، فلسفی اور فلکیاتی علوم کو گہری وسعت ملی جس کے نتیجے میں قیامت تک دنیائے کائنات ترقی کے بلند سے بلند مقامات سے گزرنے میں مگن رہے گی۔ سفر معراج النبیﷺ جہاں معجزات محمدیﷺ کی فہرست میں صف اول میں شمار ہوتا ہے وہی اس سے ماخذ معاملات اور علمی نکات پوری عالم انسانیت کے لیے موجب برکت، ترقی اور بلندی ہیں۔ معراج النبی ﷺ میں جن علمی گہرائیوں اور عملی اقدامات سے روشناس کرایا گیا وہ تا ابد اہل فراست کے ذریعے اقوام عالم کی سماجی، مذہبی اور بہبودی ترقی کے لیے مشعل راہ ہیں۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابق ان تمام باتوں کا اظہار معراج النبی کانفرنس میں امیر کاروان اسلامی انٹرنیشنل علامہ ڈاکٹر غلام رسول حامی نے جامع مسجد خلفاء راشدین کولبگ بڈگام میں جمعہ المبارک کے مقدس موقع پر کیا۔ مذکورہ اجتماع میں دور و نزدیک سے یکجا ہوے مسلمانان کے ایک جم غفیر نے شرکت کی۔ اس موقع پر علامہ حامی نے فلسفہ معراج النبیﷺ کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی و سیاسی سطح پر گردش کر رہے چند امور پر بھی روشنی ڈالی۔ علامہ حامی نے کہا کہ مذہب و مسلک سے بالا تر ہو کر جس بھی محقق نے معراج النبی ﷺ کو پڑھا اور سمجھنے کی کوشش کی وہ اس بات کو قطعاً نہیں جھٹلا سکتا کہ یہ واقعہ یقینا کائنات کے ظاہری و باطنی علوم کی ترقی کے لیے سب سے عظیم ذریعہ ثابت ہوا۔ علامہ موصوف نے وقف ترمیمی بل کو لے کر واشگاف کیا کہ اس قسم کے کسی بھی نازک اور بڑے قدم کو اٹھنے سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز سے گہری مشاورت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مسلمانوں کے نمائندگان، مذہبی رہنماوں اور قدآور شخصیات کو اعتماد میں لینا اشد ضروری ہے تاکہ ملک کی آئینی بلندی کی حیثیت اور سماجی اخوت میں کسی قسم کی آنچ نہ آنے پائے۔










