مشن یوتھ خطے کے نوجوانوں میں ہنر اور کاروباری صلاحیتوں کو بڑھانے کیلئے فائدہ مند ثابت ہوا

جے اینڈ کے مشن یوتھ کو پبلک ایڈمنسٹریشن میں بہتری کیلئے پردھان منتری ایوارڈ سے نوازا گیا

سری نگر//حکومت جموںوکشمیر کی طرف سے شروع کیا گیا ایک جامع یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام ’’ مشن یوتھ ’’ خطے کے نوجوانوں میں ہنر اور کاروباری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لئے فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔یہ پہل جموںوکشمیر یوٹی کے نوجوانوں کو درپیش سماجی و اِقتصادی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب رہی ہے تاکہ اُنہیں ممکنہ کاروباری اِمکانات میں اَپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے بروئے کار لانے کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جاسکے ۔اِس طرح وہ خطے کی ترقی میں اَپنا حصہ اَدا کرسکے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کے مسئلے کو حل کرنا’ مشن یوتھ‘ کے بنیادی مقاصد میں سے ایک تھا جو کہ مطلوبہ تربیت اور اَنٹرپرینیور شپ کے لئے مدد فراہم کرکے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں کامیاب رہا ہے۔حکومت نے اِس اقدام کے تحت انکیوبیشن سینٹرقائم کئے ہیں او رنوجوان کاروباریوں کو اَپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے مالی مدد فراہم کی ہے ۔ اِس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں بلکہ خطے کی معیشت کو بھی فروغ ملا ہے۔رامسو رام بن کے مظفراحمد وانی نے ہمیشہ ایک گاڑی کے مالک ہونے کا خواب دیکھا کیوں کہ وہ ایک باعزت روزی روٹی حاصل کرنا چاہتے تھے جو ایک بہتر کل کے لئے اَپنے کنبہ کی ضروریات پوری کرسکے۔ مظفر وانی جو پیشے کے لحاظ سے ڈرائیو ر تھا ۔وہ اِس معمولی تنخواہ سے اَپنی دو بیٹیوںاور اَپنے کنبہ کے اَخراجات کو برداشت نہیں کرسکتا تھا۔اُنہوں نے کہا،’’ بعض اَوقات مجھے کئی دِنوں تک کام نہیں ملتا ۔ کئی بار میں نے اَپنی بیٹیوں کو سکول جانے سے روکنے کا فیصلہ کیا ۔ میں ہمیشہ ان کو تعلیم دینا چاہتا تھا لیکن مالی مجبوریوں نے ہمیشہ مجھے دوسرا راستہ دیکھنے پر مجبور کیا۔ وہ روزانہ کی بنیاد پر مختلف گاڑیوں کے مالکان کے لئے کام کرتے ہوئے اَپنی 12برس کی جدوجہد کا اِنکشاف کر رہے تھے۔ مظفراحمد وانی اتنی رقم نہیں بچا سکا کہ وہ اَپنی گاڑی خرید سکے اور کنبہ کی ادھوری ضروریات نے اسے مایوسی اور اَفسردگی کے تباہ کن احساس میں مبتلاکیا۔ اس وقت جب حکومت جموںوکشمیر کی طرف سے مشن یوتھ کے ذریعے شروع کی گئی ’’ ممکن سکیم ‘‘ مظفراحمد وانی کو بچانے کے لئے آئی۔مظفر احمدوانی نے کہا ،’’ میرے ایک دوست نے مجھے گزشتہ برس اَکتوبر میں بے روزگار نوجوانوں کے لئے ’’ ممکن ‘‘ لائیو لی ہڈ سکیم کے بارے میں آگاہ کیا او رمجھے مشن یوتھ حکام سے رابطہ کرنے کو کہا۔یہ ایک خواب کے سچ ہونے جیسا تھا جب مجھے سکیم کے فوائد کے بارے میں بتایا گیا ۔‘‘ اُن کا کہنا ہے کہ وہ ٹاٹا یودھا کے خوش مالک ہونے کے ناطے مطمئن ہیں اور اَپنے کنبہ کا گزربسر کرنے اور اَپنی بیٹیوں کو تعلیم دینے کے لئے کافی کمار رہے ہیں۔سکیم کے تحت موجودہ مالی برس میں 4,482 نوجوانوں کو خود روزگار کے لئے سہولیت فراہم کی گئی ہے جس میں سکیم بینکنگ پارٹنر سے 165 کروڑ کی مالی مدد اور 16کروڑ سبسڈی کی مد میں حکومتی شراکت کے طور پر دی گئی ہے ۔ اِس سکیم کے تحت بنائے گئے خود روزگار کے مواقع نے نوجوانوں میںخود اَنحصاری اور مثبت کا احساس پیدا کیا ہے۔اِسی طرح’’ تیجسوینی ‘‘ سکیم جموںوکشمیر کی نوجوان خواتین کو بااِختیار بنانے کے لئے خصوصی طور پر تیار کردہ خود روزگار پروگرام ہے جس کا مقصد ان میں کاروباری صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔اِس سکیم نے اُنہیں معاشی آزادی حاصل کرنے میں مدد کی اور ان کی سماجی حیثیت کو بہتر بنایا۔ پروگرام کے تحت شامل تمام خواتین کاروباریوں کو جموںوکشمیر اَنٹرپرینیور شپ ڈیولپمنٹ اِنسٹی چیوٹ ( جے کے اِی ڈی آئی ) کے ذریعے اَنٹرپرینیور شپ ڈیولپمنٹ پروگرام کی تربیت دی گئی ہے تاکہ ان کے کاروبار کو قابلِ عمل بنانے کے لئے مناسب مارکیٹ کی سِکل اور ٹیکنالوجی کی جانکاری حاصل کی جاسکے۔گاندربل کی محترمہ اَفشانہ نے ہمیشہ ایک باعزت روزی روٹی حاصل کرنے کا خواب دیکھا جس سے اس کی ذاتی اور کنبے کی مالی ضروریات پوری ہوسکیں۔ وہ’’ تیجسوینی‘‘ کا اِنتخاب کرنے سے پہلے اَپنے پڑوس میں چھوٹے بچوں کو ہوم ٹیوشن دیتی تھی ۔ تاہم، یہ اس کے ذاتی اَخراجات کو برداشت کرنے کے لئے کافی نہیں تھا۔محترمہ اَفشانہ نے اَپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا،’’ میں ہمیشہ اَپنے کنبے اور معاشرے کی خدمت کرنا چاہتی تھی لیکن مالی مجبوریوں نے ہمیشہ مجھے دوسری طرف دیکھنے پر مجبور کیا۔‘‘اَفشانہ نے ’’ تیجسوینی ‘‘ سکیم کے تحت فراہم کی جانے والی اِمداد سے پولٹری فارم قائم کیا اور اَب وہ مزید پانچ ساتھی لڑکیوں کو روزگار فراہم کر رہی ہیں۔اِس مالی برس میں زائد اَز 1,588 خواتین کاروباریوں کو سکیم کے تحت مدد فراہم کی گئی ہے جس کے نتیجے میں 3,615روزگار پیدا ہوئے ہیں۔ کل 102 کروڑ روپے کی مالی اِمداد کی منظوری دی گئی ہے اور اِس سے 12 کروڑ روپے سبسڈی کی رقم حکومت کی طرف سے دی گئی ہے ۔اِسی طرح مشن یوتھ نے نچلی سطح پر نوجوانوں کی شمولیت کے لئے یوتھ رَضاکارانہ پروگرام شروع کیا اور یوتھ کلب کے نام سے ایک خصوصی رَضاکارانہ پروگرام شروع کیا۔ اِس اقدام کو لیفٹیننٹ گورنر کی سربراہی میں مشن یوتھ کی گورننگ باڈی نے منظوری دی تھی۔رضاکارانہ پروگرام کو بین الاقوامی یوتھ ڈے 2021ء کے موقعہ پر مکمل طور پر فعال بنایا گیا تھا اور اس پروگرام کے تحت پورے جموںوکشمیر یوٹی میں 4,500 یوتھ کلب تشکیل دئیے گئے ہیں۔اِس پروگرام سے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوان رضاکارانہ سرگرمیوں میں شامل ہوئے ہیں جنہیں حقیقی چیلنجوں سے کام کرنے اور معاشرے میں بامعنی تبدیلی لانے کا موقعہ ملا۔ نوجوانوں کو نئی سماجی مہارتیں سیکھنے کے قابل بنایا گیا جیسے کہ تعاون اور مسائل کو حل کرنا جو ماہرین تعلیم ، کام کی جگہ اور ان کی ذاتی زندگی میں کامیابی کے لئے ضروری ہیں۔موجودہ مالی برس میں یوتھ کلبوں کی مخصوص سرگرمیوں کے لئے 7.25 کروڑ روپے کی رقم بطور اِمداد فراہم کی گئی ہے۔پلوامہ سے عاقب نے کہا،’’ ہم نے ہمیشہ سسٹم سے بیگانگی محسوس کی لیکن مشن یوتھ کے یوتھ رَضاکار پروگرام میں شامل ہونے کے بعد ہم پالیسی سازی اور گورننس کا حصہ محسوس کر رہے ہیں۔‘‘پلوامہ کے نوجوان رَضاکاروں نے حال ہی میں ضلع کی ہر پنچایت میں ایک ماہ طویل نشامُکت مہم کا اِنعقاد کیا۔ایک نوجوان رضاکار نے کہا،’’ہم اَگلے چند مہینوں میں پلوامہ کو منشیات سے پاک ضلع بنائیں گے۔‘‘مشن یوتھ جموںوکشمیر کے نوجوانوں کے لئے گیم چینجر ثابت ہوا ہے ۔اِ س اَقدام نے نوجوانوں کو ان کی مہارتوں کو بڑھانے اور اَنٹرپرینیور شپ کو فروغ دینے کے لئے ضروری وسائل اور مدد فراہم کی ہے ۔ اِس طرح خطے کی سماجی و اِقتصادی ترقی میں اَپنا حصہ اَدا کیا ہے۔مشن یوتھ کی کامیابی دیگر ریاستوں کے لئے اَپنے نوجوانوں کی ترقی کے خاطر اِسی طرح کے اَقدامات کو عملانے کے لئے ایک تحریک کاکام کرتی ہے۔ مشن یوتھ نے چھ شعبوں کے تحت نوجوانوں کی شمولیت اور رَسائی کے لئے منظم اقدام سے جے ۔کے کے نوجوانوں کو اختراعیت ، اَمن اور ترقی کے سفیر بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے جس میں ذریعہ معاش پیدا کرنا، تعلیم ، سِکل ڈیولپمنٹ ، مالی اِمداد ، مشاورت و نظریہ ، کھیل و تفریح شامل ہیں۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ گذشتہ چند برسوں میں مشن کی طرف سے کئے گئے کام کانتیجہ نکلا جب مشن یوتھ کو اِس برس 16ویں سول سروسز ڈے پر انوویشن ( سٹیٹ) کے زُمرے کے تحت پبلک ایڈمنسٹریشن 2022ء کے لئے پردھان منتری ایوارڈ سے نوازا گیا۔