جدید گولہ بارود نئے دور کی جنگ کی حقیقت ہے تو پھر ملک کو اپنی توجہ اس پر مرکوز کرنی چاہیے کہ ہم کہاں کھڑا ہیں :راجناتھ سنگھ
سرینگر //ملک کی اقتصادی صلاحیت اسلحہ اور گولہ بارود کے میدان میں خود بخود ظاہر ہوتی ہے کا دعویٰ کرتے ہوئے وزیر دفا ع راجنا سنگھ نے کہا کہ سال 2019 میں پلوامہ ملی ٹنٹ حملے کے بعد، ہندوستان نے دوبارہ ان گولہ بارود کی درست صلاحیت کو دیکھا، جس سے مسلح افواج کو اپنے مشن میں کامیابی حاصل کرنے میں مدد ملی۔ سی این آئی مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق ایک روزہ ’’ چنتان شیور ‘‘ پروگرام کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت کو اسلحہ و گولہ بارود کے میدان میں تحقیق اور ترقی کے ساتھ ساتھ مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ راجناتھ سنگھ نے کہا’’ہم اس وقت سے بہت آگے آچکے ہیں جب بم کی جسامت اور دھماکہ خیز صلاحیت ہی اہمیت رکھتی تھی۔ اب، ان کی ہوشیاری اتنی ہی اہم ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر جدید گولہ بارود نئے دور کی جنگ کی حقیقت ہے تو پھر ملک کو اپنی توجہ اس بات پر مرکوز کرنی چاہیے کہ وہ اس علاقے میں تحقیق اور ترقی، مقامی صلاحیت اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کے لحاظ سے آج کہاں کھڑا ہے۔سنگھ نے مزید کہا ’’کسی ملک کی معاشی ترقی اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی خود بخود اس کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی صلاحیت سے ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کی طرف نئی راہیں استوار کرنے کے لیے تاریخ سے صحیح سبق سیکھنا چاہیے۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جب بھی کوئی دنیا پر غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے گولہ بارود کے میدان میں مختلف تجربات اور تحقیق کی۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم کرگل جنگ میں ایک بہت بڑی فتح حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ راجناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ سال 2019میں پلوامہ حملے کے بعد، ہندوستان نے دوبارہ ان گولہ بارود کی درست صلاحیت کو دیکھا، جس سے مسلح افواج کو اپنے مشن میں کامیابی حاصل کرنے میں مدد ملی۔










