manooj sinha

مسئلے پر مکالمے کیلئے میرے دروازے کھلے

پراپرٹی ٹیکس کی پالیسی بناتے وقت جموں و کشمیر کے لوگوں کے مفادات کو اولین ترجیح دی گئی

اگر عوام کو لگتا ہے کہ بہتری کی گنجائش ہے تو اُن سے تجاویز مانگی گئی ہیں: لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا

سری نگر//جموں وکشمیرمیںیکم اپریل2023سے لاگو ہونے والے پراپرٹی ٹیکس کیخلاف جموں چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے سرمائی راجدھانی میں ہوئی ہڑتال کے بیچ جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کوکہاکہ اس معاملے پر مکالمے کیلئے اُن کے دروازے کھلے ہیں ۔تاہم انہوںنے کہا کہ لوگ سمجھدار ہیں اور صورتحال کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے جموںمیں ایک تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ جموں وکشمیر کے لوگ سمجھدار ہیں اور صورتحال کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔تاہم منوج سنہا نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس کے معاملے پر بات چیت کیلئے ان کے دروازے کھلے ہیں۔انہوں نے ساتھ ہی کہاکہ قواعدوضوابط وضع کرتے وقت جموں و کشمیر کے لوگوں کے مفادات کو ترجیح دی گئی ہے۔پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ کے خلاف جموںمیں تاجروں کی ہڑتال سے متعلق ایک سوال کے جواب میںلیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہاکہ جموں و کشمیر کے لوگ عقلمند اور ذہین ہیں۔ وہ صورت حال کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کی زیر صدارت ان کی رہائش گاہ پر کل جماعتی میٹنگ کا امکان ہے جس میں پراپرٹی ٹیکس ایجنڈے میں شامل مسائل میں سے ایک ہے،لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ وہ سیاسی مسائل پر بات نہیں کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ میرا ماننا ہے، ہم نے ان(سیاسی لیڈروں) کیلئے ایسے معاملات پر کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہانے کہاکہ پراپرٹی ٹیکس کی پالیسی بناتے وقت جموں و کشمیر کے لوگوں کے مفادات کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ مقرر کردہ پراپرٹی ٹیکس کی رقم شملہ، امبالہ اور دہرادون میں لوگوں کی طرف سے ادا کئے جانے والے متعلقہ ٹیکس کا دسواں حصہ ہے۔منوج سنہاکاکہناتھاکہ دیہی علاقوں اور 40 فیصد آبادی پر شہری علاقوں میں جائیداد پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا،جبکہ40 فیصد لوگوں کو سالانہ تقریباً1000 روپے بطور پراپرٹی ٹیکس ادا کرناپڑے گا۔لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ ایک لاکھ سے زیادہ دکانیں ہیں، جن میں سے46 فیصد دکانیں100 مربع فٹ سے کم جگہ یارقبہ پر ہیں اور ایسے دکانات کے مالکان کو تقریباً 700 روپے سالانہ اور36ہزار دکانداروں کو جائیداد ٹیکس کی مد میں صرف 2000 روپے سالانہ ادا کرنا پڑے گا۔جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہانے نامہ نگاروںکوبتایاکہ ہم نے ٹول فری نمبر جاری کئے ہیں اور اگر عوام کو لگتا ہے کہ بہتری کی گنجائش ہے تو ان سے تجاویز مانگی گئی ہیں۔انہوںنے کہاکہ اگر کسی ریلیف کی ضرورت ہے تو ہم اسے عوام کو ضرور دیں گے۔منوج سنہا نے پھر کہا کہ اس مسئلے پر بات چیت کیلئے ان کے دروازے کھلے ہیں۔کمپیوٹر پر مبنی تحریری امتحانات کے انعقاد کے لئے پہلے سے بلیک لسٹ کی گئی کمپنی APTECHکی خدمات حاصل کرنے پر ملازمت کے خواہشمندوں کے احتجاج پر، لیفٹنٹ گورنر منوج سنہانے کہا کہ یہ مسئلہ عدالت کے سامنے ہے اور آئین مجھے اس پر بولنے کی اجازت نہیں دیتا۔