Union Minister for Road Transport and Highways Nitin Gadkari today inspected Zojila Tunnel in the presence of Lieutenant Governor Manoj Sinha-10-1

مرکزی وزیر نتن گڈکری نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کے ساتھ

لداخ کیلئے تمام موسمی رابطہ قائم کرنے کیلئے ایشیا کی سب سے طویل ٹنل زوجیلا ٹنل کا معائینہ کیا

سونہ مرگ //مرکزی وزیر روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز نِتن گڈکری نے آج لیفٹیننٹ گورنر جموں و کشمیر منوج سنہا اور روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز پر پارلیمانی مشاورتی کمیٹی کے ممبران کے ساتھ جموں و کشمیر میں عملائے گئے ایک اہم پروجیکٹ لداخ کیلئے تمام موسمی رابطہ قائم کرنے کیلئے ایشیا کی سب سے لمبی ٹنل زوجیلا ٹنل کا معائینہ کیا ۔ جموں و کشمیر میں 25000 کروڑ روپے کی لاگت سے 19 ٹنل تعمیر کی جا رہی ہیں ۔ اس کے تحت زوجیلا میں 6800 کروڑروپے کی لاگت سے 13.14 کلو میٹر لمبی ٹنل اور اپروچ روڈ کی تعمیر کا کام جاری ہے ۔ یہ 7.57 میٹر اونچی ہارس شو کی شکل والی سنگل ٹیوب ، دو لین والی سرنگ ہے جو ہمالیہ میں زوجیلا پاس کے نیچے سے کشمیر کے گاندر بل اور لداخ کے کرگل ضلع کے دراس شہر کے درمیان سے گزرے گی ۔ اس منصوبے میں ایک سمارٹ ٹنل ( ایس سی اے ڈی اے ) سسٹم شامل ہے جسے نیو آسٹرین ٹنلنگ طریقہ استعمال کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا ہے ۔ یہ سی سی ٹی وی ، ریڈیو کنٹرول ، بلا تعطل بجلی کی فراہمی ، وینٹی لیشن جیسی سہولیات سے لیس ہے ۔ اس پروجیکٹ میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مرکزی حکومت کو 5000 کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت ہوئی ہے ۔ زوجیلا ٹنل پروجیکٹ کے تحت 13153 میٹر کی مین زوجیلا سرنگ جس کی کل لمبائی 810 میٹر کے 4 کلورٹس ہیں ، 4 نیلگرار سرنگیں ہیں جن کی کل لمبائی 4821 میٹر ہے ، 8 کٹ اور کل لمبائی 2350 میٹر ہے اور 220 میٹر عمودی وینٹیلیشن شافٹ تجویز کیا گیا ہے ۔ زوجیلا ٹنل کا اب تک 28 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے ۔ اس ٹنل کی تعمیر سے لداخ کیلئے ہر موسم کیلئے رابطہ قائم ہو جائے گا ۔ فی الحال زوجیلا پاس کو عبور کرنے میں اوسطاً سفر کا وقت بعض اوقات تین گھنٹے لگتا ہے اس سرنگ کی تکمیل کے بعد سفر کا وقت کم ہو کر 20 منٹ رہ جائے گا ۔ سفر کے وقت میں کمی کے نیتجے میں بالآخر ایندھن کی بچت ہو گی ۔ زوجیلا پاس کے قریب کا علاقہ انتہائی ناگوار ہے یہاں ہر سال کئی جان لیوا حادثات رونما ہوتے ہیں ۔ زوجیلا ٹنل کی تکمیل کے بعد حادثات کے امکانات صفر ہو جائیں گے ۔ یہ سرنگ وادی کشمیر اور لداخ کے درمیان سال بھر رابطہ فراہم کرے گی جو لداخ کی ترقی ، سیاحت کے فروغ ، مقامی سامان کی آزادانہ نقل و حرکت اور ہنگامی صورتحال میں ہندوستانی مسلح افواج کی نقل و حرکت کیلئے انتہائی اہم ہو گی ۔