مرکزی سیکرٹری نے جے کے پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کی اِی۔ ٹرانسفارمیشن کی سراہنا کی

جموں//مرکزی سیکرٹری خوراک اور عوامی تقسیم کاری محکمہ سنجیو چوپڑا نے محکمہ خوراک ، شہری رسدات اور امورِ صارفین ( ایف سی ایس اینڈ سی اے ) جموںوکشمیر کی طرف سے عوامی تقسیم کاری نظام کو ہمہ گیر تبدیلی اور بہتر کرنے کے لئے متعارف کی گئی اِصلاحات کی تعریف کی ہے۔مرکزی سیکرٹری نے ایف سی ایس اینڈ سی اے ڈیپارٹمنٹ کے اَفسروں کے ساتھ اِستفساری گفتگو کرتے ہوئے پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کو بغیر کسی پریشانی بنانے کے لئے محکمہ کی جانب سے کی گئی قابل ستائش کوششوں کی سراہنا کی اور وزنی پیمانہ کے ساتھ اِی ۔ پوز کے فوری اِنضمام کی ضرورت پر زوردیا۔اُنہوں نے محکمہ سے کہا کہ وہ مناسب صلاحیت پیدا کرے اور روٹ آپٹی مائزیشن پلان کی عمل آوری کے لئے تیا ہوجائے جبکہ مرکزی حکومت کی طرف سے اُنہیں مطلع کیا جاتا ہے اوراُنہوں نے سمارٹ پی ڈی ایس میں مؤثر شرکت پربھی زور دیا ہے۔اِس سے قبل کمشنر سیکرٹری ایف سی ایس اینڈ سی اے زبیر احمد نے اَپنی پرزنٹیشن میں نئے اقدامات پر زور دیتے ہوئے محکمہ کام کاج کا جائزہ پیش کیا۔ اُنہوں نے مرکزی سیکرٹری کو جانکاری دی کہ جموںوکشمیر میں 24.80 لاکھ راشن کارڈ ہولڈر ہیں جن کی آبادی 96.74 لاکھ اِستفادہ کنندگان کو صد فیصد آدھار سیڈنگ کے ساتھ شامل ہے۔اُنہوں نے کہا کہ آدھار سیڈنگ نے دس لاکھ سے زیادہ بوگس اِستفادہ کنندگان کو فہرست سے ہٹانے میں سہولیت فراہم کی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں عوامی تقسیم کا نظام 6,735 راشن شاپ کے ایک مضبوط اور وسیع نیٹ ورک بنایا گیا ہے جس میں 2,104 سرکاری دُکانیں اور 4,631نجی دُکانیں شامل ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر کے تمام سیل آئوٹ لیٹس میں اِی پی او ایس ڈیوائسز نصب کی گئی ہیں اور لین دین میں 93.85 فیصد کی آدھار تصدیق کی شرح کے ساتھ تقسیم کا عمل مکمل طور پر خود کار ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ 6,393 پی او ایس مشینیں آن لائن موڈ میں کام کر رہی ہیں۔زبیر احمد وَن نیشن وَن راشن کارڈ ( او این او آر سی ) کے بارے میں کہا کہ گزشتہ مہینے تک او این او آر سی کے 39,125 ٹرانز یکشنز کئے گئے جس سے جموںوکشمیر ملک میں 10ویں نمبر پر ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس مدت کے دوران 13,50,513 پورٹیبلٹی ( اِنٹرڈسٹرکٹ ) ٹرانز یکشنز کی گئیں۔اُنہوں نے کہا کہ پردھان منتری غریب کلیان انایوجنا ( پی ایم جی کے اے وائی ) کے تحت اپریل 2020ء سے دسمبر 2022 ء تک 7مرحلوں میں 8,94,891.33 میٹرک ٹن اَناج تقسیم کیا گیا۔اِس کے علاوہ این ایف ایس اے اور غیر این ایف ایس اے کے تحت مستحق اَفراد میں تقسیم کی گئی۔کمشنر سیکرٹری موصوف نے کہا کہ ایف پی ایس کو تبدیل کرنے کے لئے مختلف اقدامات کئے گئے ہیں ۔ ان میں محکمہ ایف سی ایس اینڈ سی اے جموںوکشمیر اور سی ایس سی اِی ۔ گورننس سروسز اِنڈیا لمٹیڈ کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط شامل ہیں تاکہ سی ایس سی خدمات کی فراہمی کے لئے اِی پی او ایس ڈیوائسز کا فائدہ اُٹھایا جاسکے اور ایف پی ایس کمیشن میں اِضافے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ سپلائی چین مینجمنٹ کا صحیح عمل آوری توجہ کا مرکز رہا ہے اور محکمہ مشکل خطوں ، اِنٹرنیٹ کے مسائل، مطلوبہ آئی ٹی اِنفراسٹرکچر کی کمی اور بجلی کے مسائل کے باوجود ایس سی ایم کے 98فیصد پر عمل درآمد حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے ۔کمشنر سیکرٹری نے کہا کہ جموںوکشمیر نظام کو شفاف ، قابل بھروسہ اور قابل اعتبار بنانے کے لئے ٹیکنالوجی کے اقدام پر مبنی تمام اِصلاحات پر عمل پیرا ہے۔اِس سے قبل مرکزی سیکرٹری نے جموںوکشمیر کے اَپنے 2روزہ دورے کے آغاز میں 2؍ اپریل 2023ء کو تحصیل نگروٹہ میں پنچایت ڈھوک وزیریاں میں فیئر پرائس شاپ کا دورہ کیا ۔ مرکزی وزیر کے ہمراہ کمشنر سیکرٹری ایف سی ایس اینڈ سی اے ، ڈائریکٹر ایف سی ایس اینڈ سی اے جموں، جنرل منیجر ایف سی آئی اور محکمہ دیگر اَفسران بھی تھے۔مرکزی سیکرٹری نے پی ایف ایس کے دورے کے دوران نظام میں شفافیت لانے اور استفادہ کنند گان کے تجربے کو بڑھانے کے لئے پی ڈی ایس میں محکمہ کے ذریعے متعارف کئے گئے مختلف تکنیکی اقدامات کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے آدھار پر مبنی پوائنٹ آف سیل ( پی او ایس ) مشینوں سے فائدہ مندوں کو راشن کی تقسیم کے طریقہ کار کو احتیاط سے چیک کیا ۔ اُنہوں نے استفادہ کنند گان کے ساتھ تفصیلی اِستفساری گفتگو کی اور دورہ کے دوران بہار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص ’’ ایک ملک ایک راشن کارڈ ‘‘ سکیم کے تحت راشن وصول کرتے ہوئے دیکھا۔اُنہوں نے فیئر پرئس شاپ کو کنٹرول کرنے والے مختلف پیرا میٹروں جیسے اِنفراسٹرکچر ، غذائی اجناس کا معیار، اناج کی شرح اور پیمانہ ، شکایات کے ازالے کا طریقہ کار اور استفادہ کنند گان میں محکمہ کی سکیموں کے بارے میں بیداری کا بھی جائزہ لیا۔مرکزی سیکرٹری موصوف نے زمینی سطح پر ایف پی ایس کی تبدیلی میں محکمہ طرف سے کی گئی کوششوں کی تعریف کی ۔اُنہوں نے ایف پی ایس کی قابل عملیت کو نمایاں طورپر بڑھانے پر زور دیا۔