مرکزی سیکرٹری فوڈ اینڈ پبلک ڈسٹری بیوشن نے جموں وکشمیر میں محکمہ کے کام کی سراہنا کی

جموں//کووڈ بحران کے دوران خوراک کی حفاظت سے نمٹنے کے ہندوستان کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے اورکئی بین الاقوامی فورموں بشمول ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈپروگرام اور بین الاقوامی سطح پر وزراء کی میٹنگ میںسراہنا کی گئی ہے۔حکومت نے ان بحرانوں کے دوران اَپنے لوگوں کی خدمت کے ساتھ ساتھ دوسری قوموں کے لوگوں کی بھی مدد کی۔اِن باتوں کا اِظہار آج مرکزی سیکرٹری فوڈ اینڈ پبلک ڈسٹربیوشن ( ایف اینڈ پی ڈی ) ڈیپارٹمنٹ سدھا نشو پانڈے نے جموںوکشمیر کے اَپنے دو روزہ دورے پر خطے میں خوراک ،شہری رسدات اور امورِ صارفین محکمہ کے کام کاج کا جائزہ لینے کے دوران کیا۔ سول سیکرٹریٹ میں منعقد ایک میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری ایف سی ایس اینڈ سی اے زبیر احمد نے جموںوکشمیر میں پی ڈی ایس کو شفاف اور قابل بھروسہ بنانے میں محکمہ کی کوششوں کو پیش کرنے کے لئے ایک تفصیلی پرزنٹیشن دی ۔سیکرٹری کو جانکاری دی گئی کہ اِی پی او ایس مشینیں بہت زیادہ ہیں،جموںوکشمیر میں تمام 6,735 سیل آئوٹ لیٹس پر نصب کیا گیا ہے ، پی ڈی ایس میں تمام سطحوں پر صد فیصد آدھار سیڈنگ حاصل کی گئی اور آدھار سے تیار کردہ لین دین 91 کو عبور کر چکے ہیں۔اُنہیں بتایا گیا کہ وَن نیشن وَن راشن کارڈ سکیم کے تحت اَب تک کی گئی لین دین کی تعداد کے لحاظ سے جموںوکشمیر ہندوستان میں 9ویں نمبر پر ہے ۔ انہیں یہ بھی جانکاری دی گئی کہ سی ایس سی اِی گورننس سروسز اِنڈیا لمٹیڈ کے ساتھ بھی ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے گئے ہیں تاکہ سی ایس سی خدمات کی فراہمی کے لئے اِی پی او ایس ڈیوائسز کا فائدہ اُٹھایا جاسکے۔ 2,533 آئوٹ لیٹس کو آئی ڈی فراہم کی گئی ہیں اور ان میں سے 769 پہلے ہی فعال ہیں۔مرکزی سیکرٹری کو محکمہ کی طرف سے متعارف کئے گئے واٹس ایپ ہیلپ لائن نمبر جموں کے لئے 9055224552اور کشمیر کے لئے 9419600009کے بارے میں مطلع کیا گیا ۔ بتایا گیا کہ زائد اَز 10لاکھ بوگس اور ڈپلی کیٹ فائدہ اُٹھانے والوں کو ریکارڈ سے ہٹا دیا گیا ہے۔اِس سے قبل سدھا نشو پانڈے نے کٹرہ اور جموں میں کئی فیئر پرائس شاپوں کا دورہ کیا اور ان کے سیٹ اَپ اور سہولیات کا معائینہ کیا۔ اُنہوں نے مقامی لوگوں سے بات چیت کی اور ان کی رائے حاصل کی سیکرٹری نے نگروٹا میں نیو فوڈ سٹور کا بھی معائینہ کیا اور اِس سہولیت کے جدید اِنتظام اور ترقی کے لئے اَقدامات تجویز کئے۔سیکرٹری نے فورٹیفائیڈ فوڈ اَناج کے بارے میں شکوک و شبہات کو دور کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے اَفسران کو بیداری مہم چلانے کی ہدایت دی ۔سیکرٹری نے حکومت کی کامیابیوں کی وضاحت کرتے ہوئے مرکزی حکومت عوام کی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے بڑی رقم خرچ کر رہی ہے ۔حکو مت نے خوراک کی افراط زر کے عالمی رجحانات کو پیچھے چھوٹے ہوئے گذشتہ برس 5,62,000کروڑ روپے کی خوراک کی سبسڈی دی تھی۔ اِسی طرح جموںوکشمیر میں حکومت 5000 کروڑ روپے کا اناج تقسیم کر رہی ہے اور پی ایم جی کے وائی اور این ایف ایس اے راشن سپلائی کے تحت 4000 کروڑ روپے فوڈ سبسڈی کے طور پر خرچ کر رہی ہے۔اُنہوں نے ’ وَن نیشن وَن راشن کارڈ سکیم ‘ کی ستائش کی اور کہا کہ اس کی وجہ سے مائیگرنٹ مزدور ، موسمی مزدور سمیت دیگر تمام شہری ملک میں کسی بھی جگہ راشن حاصل کرسکتے ہیں۔ اُنہوں نے اَفسران کو مشورہ دیا کہ وہ محکمہ محنت کے ساتھ مل کر زمینی سروے کریں تاکہ مزدوروں کو سکیم کا فائدہ اُٹھانے اور اَپنی پسند اور سہولیت کے ڈیلر شپ سے راشن جمع کرنے کی ترغیب دی جاسکے۔سدھا نشو پانڈے نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ اناج کی مقامی خریداری کی حوصلہ اَفزائی کریں۔ اُنہوں نے تجویز دی کہ محکمہ کو فوڈ کارپوریشن آف اِنڈیا کے ذریعے مقامی کسانوں سے اناج کی مزید تقسیم کے لئے اناج کی خریداری کو فروغ دینا چاہیے۔اُنہوں نے کہا کہ یہ کسانوں کو بااِختیار بنائے گا اور ٹرانسپورٹیشن اور تقسیم کی لاگت کو کم کرے گا اور اس طرح کمیونٹی کو فائدہ پہنچے گا۔اُنہوں نے مختصر وقت میں صد فیصد آدھار سیڈنگ ،زائد اَز91 فیصد آدھار سے تصدیق شدہ لین دین اور دیگر سنگ میل حاصل کرنے کے لئے جے اینڈ کے فوڈ اینڈ سول سپلائز اینڈ کنزیومر افئیر ڈیپارٹمنٹ کی تعریف کی۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں آیوشمان بھارت کی تصدیق کے لئے پی ڈی ایس ڈیٹا بیس کے استعمال کو فروغ دینے کی خاطر محکمہ کی بھی سراہناکی۔مرکزی سیکرٹری کے ساتھ میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری ایف سی ایس اینڈ سی اے زبیر احمد ، ڈائریکٹر ایف سی ایس اینڈ سی اے جموں ڈاکٹر نسی جاوید ، جنرل منیجر ایف سی آئی جموں ایچ ایس دھالیوال ، جوائنٹ ڈائریکٹر ایف سی ایس اینڈ سی اے جموں اشوک کمار ، محکمہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹروں سمیت کئی دیگر سینئر اَفسران موجود تھے۔